اسلام آباد ہائیکورٹ، نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے کا حکم کالعدم، سابق نیول چیف کے خلاف کارروائی بھی ختم

اسلام آباد ہائیکورٹ، نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے کا حکم کالعدم، سابق نیول چیف کے خلاف کارروائی بھی ختم
اسلام آباد، 2 ستمبر: اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے راول جھیل کے کنارے پاکستان نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے سے متعلق 2022 کا سنگل بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، جبکہ سابق چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل (ر) ظفر محمود عباسی کے خلاف مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی سے متعلق احکامات بھی ختم کر دیے گئے۔
جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند پر مشتمل ڈویژن بینچ نے وزارت دفاع، سابق نیول چیف ایڈمرل (ر) ظفر محمود عباسی اور دیگر کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیلوں پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اپیلیں منظور کرتے ہوئے سنگل بینچ کے فیصلے کے متعلقہ حصے کالعدم قرار دے دیے۔
تازہ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں نیول سیلنگ کلب کی عمارت گرانے کا حکم بھی ختم ہوگیا ہے، جبکہ پاکستان نیول فارمز کو غیر قانونی قرار دینے اور اس کی زمین سے متعلق کیے گئے احکامات بھی کالعدم قرار دیے گئے ہیں۔
عدالت نے سابق نیول چیف ایڈمرل (ر) ظفر محمود عباسی کے خلاف مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی شروع کرنے سے متعلق احکامات بھی ختم کر دیے۔ اسی طرح قومی خزانے کو پہنچنے والے مبینہ نقصان کا تعین کرنے، فرانزک آڈٹ کرانے اور ذمہ دار افسران سے رقم کی وصولی سے متعلق ہدایات بھی کالعدم قرار دے دی گئی ہیں۔
یہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس اطہر من اللہ کے 7 جنوری 2022 کے فیصلے سے متعلق ہے۔ اس فیصلے میں سنگل بینچ نے پاکستان نیوی کے نیول سیلنگ کلب اور راول جھیل کے قریب قائم نیول فارمز کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے نیول سیلنگ کلب کی عمارت منہدم کرنے کا حکم دیا تھا۔
2022 کے فیصلے میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ نیول سیلنگ کلب راول جھیل کے کنارے واقع ایسے علاقے میں قائم کیا گیا جو محفوظ نیشنل پارک کا حصہ تھا۔ عدالت کے مطابق پاکستان نیوی کو اس زمین پر متعلقہ قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔
سنگل بینچ نے نیول سیلنگ کلب کو ریگولرائز نہ کرنے اور نیول فارمز کا کنٹرول متعلقہ سول اتھارٹی کو منتقل کرنے سے متعلق بھی احکامات جاری کیے تھے۔ عدالت نے پاکستان نیوی کو راول جھیل پر اپنی سرگرمیاں روکنے اور متعلقہ زمین سمال ڈیمز آرگنائزیشن کے حوالے کرنے کی ہدایت کی تھی۔
فیصلے میں اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کو راول جھیل کے اطراف قدرتی ماحول کی بحالی کے اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی، جبکہ ماحولیاتی نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ماحولیاتی قانون کے ماہر ڈاکٹر پرویز حسن کو ون پرسن امپلی مینٹیشن کمیشن مقرر کیا گیا تھا۔
2022 کے فیصلے میں آڈیٹر جنرل کو پاکستان نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کا فرانزک آڈٹ کرنے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تعین کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔ عدالت نے ذمہ دار افسران سے مبینہ نقصان کی رقم وصول کرنے سے متعلق احکامات بھی جاری کیے تھے۔
سابق نیول چیف ایڈمرل (ر) ظفر محمود عباسی کے حوالے سے سنگل بینچ نے قرار دیا تھا کہ انہوں نے نیول سیلنگ کلب کی عمارت کا افتتاح کرکے اپنے حلف اور آئینی ذمہ داری سے تجاوز کیا۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو ان کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی جبکہ متعلقہ افسران کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔
سنگل بینچ نے نیول فارمز کی زمین کی پاکستان نیوی ہیڈکوارٹر کے نام میوٹیشن اور زمین سے متعلق جاری کیے گئے بعض این او سیز کو بھی غیر قانونی قرار دیا تھا اور متعلقہ سول اتھارٹی کو زمین کا کنٹرول سنبھالنے کی ہدایت کی تھی۔
بعد ازاں وزارت دفاع، سابق نیول چیف اور دیگر متعلقہ فریقین نے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کیں۔ اپیل کنندگان کا مؤقف تھا کہ نیول فارمز اور واٹر اسپورٹس سینٹر کے قیام کے لیے متعلقہ حکومتی سطح پر منظوری حاصل کی گئی تھی اور سنگل بینچ نے مقدمے کے حقائق اور قانونی نکات کا درست طور پر جائزہ نہیں لیا۔
اب اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی ڈویژن بینچ نے ان اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے 2022 کے سنگل بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد نیول سیلنگ کلب کی عمارت گرانے، نیول فارمز اور اس کی زمین سے متعلق سنگل بینچ کے احکامات، جبکہ سابق نیول چیف ایڈمرل (ر) ظفر محمود عباسی اور دیگر متعلقہ افسران کے خلاف مس کنڈکٹ و فوجداری کارروائی سے متعلق ہدایات بھی ختم ہوگئی ہیں۔