اسٹیٹ بینک کا ہاؤسنگ فنانس قوانین میں تاریخی اوور ہال، 30 سالہ قرض اور 90 فیصد تک فنانسنگ کی اجازت

اسٹیٹ بینک کا ہاؤسنگ فنانس قوانین میں تاریخی اوور ہال، 30 سالہ قرض اور 90 فیصد تک فنانسنگ کی اجازت
اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ہاؤسنگ فنانس کے قوانین میں اہم ترامیم کرتے ہوئے قرض کی زیادہ سے زیادہ مدت 30 سال اور Loan-to-Value (LTV) تناسب 90 فیصد مقرر کردیا ہے، جبکہ Debt-Burden Ratio کی حد خالص قابلِ تصرف آمدنی کے 65 فیصد تک کردی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے 18 اگست 2026 کو جاری کردہ SH&SFD سرکلر نمبر 04 آف 2026 کے تحت نظرثانی شدہ Prudential Regulations فوری طور پر نافذ العمل ہوگئے ہیں اور ان کا اطلاق تمام بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں پر ہوگا۔
نئے ضوابط کے تحت ہاؤسنگ فنانس مکان یا اپارٹمنٹ کی خریداری کے علاوہ پہلے سے ملکیتی پلاٹ پر مکان کی تعمیر، پلاٹ کی خریداری کے ساتھ تعمیر، موجودہ مکان کی توسیع، مرمت و تزئین و آرائش اور سولر سمیت دیگر قابلِ تجدید توانائی کے نظام کی تنصیب کے لیے بھی حاصل کیا جاسکے گا۔
سولر اور دیگر قابلِ تجدید توانائی کے نظام کے لیے فنانسنگ کی زیادہ سے زیادہ مدت 10 سال مقرر کی گئی ہے۔
نئے فریم ورک کے تحت بینک جائیداد کی قابلِ قبول مالیت کے زیادہ سے زیادہ 90 فیصد تک فنانسنگ کرسکیں گے، جبکہ کم از کم 10 فیصد حصہ درخواست گزار کو اپنی ایکویٹی سے فراہم کرنا ہوگا۔ تاہم 90 فیصد LTV زیادہ سے زیادہ ریگولیٹری حد ہے اور قرض کی منظوری درخواست گزار کی آمدنی، کریڈٹ ہسٹری، ادائیگی کی صلاحیت، جائیداد کی قانونی حیثیت اور بینک کی ویلیوایشن سے مشروط ہوگی۔
Debt-Burden Ratio کے تحت ہاؤسنگ فنانس سمیت درخواست گزار کے تمام کنزیومر قرضوں کی مجموعی ماہانہ ادائیگی اس کی خالص قابلِ تصرف آمدنی کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہوسکے گی۔
نظرثانی شدہ ضوابط میں غیر رسمی آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے بھی ہاؤسنگ فنانس تک رسائی آسان بنانے کے اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ بینک قابلِ اطلاق صورت میں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے Proxy Income Estimation Models استعمال کرسکیں گے، جبکہ ایسے درخواست گزاروں سے کرایہ نامہ، کرایہ ادائیگی کا بیان، یوٹیلیٹی یا موبائل فون بل، بچوں کی اسکول فیس کا چالان یا دیگر قابلِ تصدیق اخراجاتی ثبوت بھی طلب کیا جاسکے گا۔
نئے قواعد کے مطابق ایک کروڑ روپے تک ہاؤسنگ فنانس کے لیے بینک اپنے داخلی وسائل سے جائیداد کی ویلیوایشن کرسکتا ہے، جبکہ ایک کروڑ روپے سے زیادہ فنانسنگ کے لیے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے منظور شدہ پینل میں شامل کم از کم ایک ویلیوایٹر سے جائیداد کا تخمینہ کرانا ہوگا۔
اسٹیٹ بینک نے ہاؤسنگ فنانس کے لیے تنخواہ دار، باقاعدہ کاروباری اور غیر رسمی آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے الگ درخواست فارم بھی متعارف کرائے ہیں۔ درخواستیں فزیکل اور ڈیجیٹل دونوں طریقوں سے جمع کرائی جاسکیں گی، جبکہ قرض کی شرائط اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں واضح کرنا لازم ہوگا۔ ڈیجیٹل دستخط اور OTP یا دیگر Two-Factor Authentication کے ذریعے تصدیق کی بھی اجازت دی گئی ہے۔
بینکوں کو قرض لینے والے کو دستخط شدہ معاہدے کی نقل، سالانہ اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹ، تمام فیسوں اور اخراجات، سالانہ شرح، قسط میں ممکنہ تبدیلی اور قبل از وقت ادائیگی کی شرائط سے آگاہ کرنا ہوگا۔
فنانس کیے جانے والے گھر یا رہائشی یونٹ کے لیے بقایا قرض کے مساوی جامع انشورنس یا تکافل کوریج بھی لازمی ہوگی، جبکہ سولر فنانسنگ میں سولر پینلز، انورٹرز، بیٹریاں اور متعلقہ آلات بطور سکیورٹی استعمال کیے جاسکیں گے۔
نادہندہ ہاؤسنگ فنانس کی درجہ بندی کے لیے بھی چار درجے مقرر کیے گئے ہیں۔ 90 دن یا اس سے زیادہ واجب الادا قرض OAEM، 180 دن یا اس سے زیادہ Substandard، ایک سال یا اس سے زیادہ Doubtful اور دو سال یا اس سے زیادہ واجب الادا قرض Loss کے زمرے میں شمار ہوگا۔
نئے ضوابط کے مطابق قرض کی Rescheduling یا Restructuring زیادہ سے زیادہ ہر دو سال میں ایک مرتبہ کی جاسکے گی، جبکہ مدت میں زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی توسیع دی جاسکے گی، تاہم قرض کی مجموعی مدت 30 سال سے تجاوز نہیں کرسکے گی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق نظرثانی شدہ فریم ورک ہاؤسنگ فنانس کی موجودہ مارکیٹ صورتِ حال کے جامع جائزے کے بعد تیار کیا گیا ہے اور اس کا مقصد ہاؤسنگ فنانس کو زیادہ وسیع، دستاویزی اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔
نئے ضوابط سے کم اور متوسط آمدنی والے اہل افراد کے لیے گھر خریدنے، تعمیر کرنے یا موجودہ گھر کی توسیع و بہتری کے امکانات بڑھنے کی توقع ہے، جبکہ تعمیرات، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، سینیٹری، سولر آلات اور دیگر متعلقہ شعبوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق نئے قواعد کے باوجود ہاؤسنگ مارکیٹ میں فوری تیزی یقینی نہیں، کیونکہ اس کا انحصار بینکوں کی شرحِ منافع، جائیداد کی قیمتوں، قرض کی حقیقی دستیابی، درخواستوں کی منظوری، آمدنی کی سطح اور مجموعی معاشی صورتِ حال پر ہوگا۔ طویل قرض مدت ماہانہ قسط کم کرسکتی ہے، تاہم اس کے نتیجے میں قرض کی مجموعی لاگت زیادہ ہوسکتی ہے، اس لیے درخواست گزاروں کو معاہدے سے قبل شرحِ منافع، مجموعی قابلِ ادائیگی رقم، انشورنس یا تکافل، ویلیوایشن فیس، قبل از وقت ادائیگی کے چارجز اور جائیداد کے قانونی ٹائٹل کا مکمل جائزہ لینا چاہیے۔