مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز پر عارضی معاہدے کے قریب، جنگ جلد ختم ہو گی، ٹرمپ

امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز پر عارضی معاہدے کے قریب، جنگ جلد ختم ہو گی، ٹرمپ

امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز پر عارضی معاہدے کے قریب، جنگ جلد ختم ہو گی، ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت مثبت انداز میں جاری ہے اور انہیں یقین ہے کہ موجودہ کشیدگی اور جنگ بہت جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنے کے حوالے سے ایک عارضی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تمام متعلقہ فریق خطے میں امن و استحکام کے قیام اور عالمی تجارت کو معمول پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے، جس کے باعث مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔

انہوں نے ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے باعث امریکی اسلحے کے ذخائر میں کمی کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے دفاعی وسائل مکمل طور پر محفوظ ہیں اور ایسی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں۔

صدر ٹرمپ نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ اختلافات اور کشیدگی سے متعلق خبروں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات پر ان کی انتظامیہ مکمل طور پر متحد ہے اور حکومت کے اندر کسی قسم کا اختلاف نہیں۔

دوسری جانب عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے جاری سفارتی کوششیں تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں اور مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے ممکنہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ملک بھر، بالخصوص دارالحکومت تہران میں داخلی سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور حساس تنصیبات پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز سے متعلق عارضی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف خلیجی خطے میں کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی رسد اور قیمتوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، تاہم مستقل جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششوں کی کامیابی اب بھی اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں