امریکا نے کالعدم قرار دیے گئے ٹیرف کی مد میں 100 ارب ڈالر واپس کردیئے

امریکا نے کالعدم قرار دیے گئے ٹیرف کی مد میں 100 ارب ڈالر واپس کردیئے
واشنگٹن: امریکی حکومت نے سپریم کورٹ کی جانب سے کالعدم قرار دیے گئے ٹیرف کی مد میں درآمد کنندگان سے وصول کی گئی تقریباً 100 ارب ڈالر کی رقم واپس کردی ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی کسٹمز حکام نے امریکی عدالت برائے بین الاقوامی تجارت میں جمع کرائی گئی دستاویز میں بتایا ہے کہ جولائی کے اختتام تک تقریباً 100 ارب ڈالر، جس میں ٹیرف کی اصل رقم اور اس پر عائد سود شامل ہے، درآمد کنندگان کو واپس کیے جاچکے تھے۔
یہ رقم ان 166 ارب ڈالر کے ٹیرف میں سے نصف سے زیادہ ہے جنہیں امریکی سپریم کورٹ نے رواں سال فروری میں غیر قانونی قرار دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے 20 فروری کو اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) صدر کو تجارتی شراکت دار ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر یکطرفہ طور پر ٹیرف عائد کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔
رپورٹ کے مطابق رقم کی واپسی ان کمپنیوں کو کی جارہی ہے جنہوں نے درآمدات کے وقت متعلقہ ٹیرف ادا کیے تھے۔ تاہم بعض امریکی قانون سازوں نے اس طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس رقم کا فائدہ عام امریکی صارفین کے بجائے بڑے کارپوریٹ درآمد کنندگان کو پہنچ رہا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپنی ٹیرف پالیسی جاری رکھی۔ امریکی حکومت نے بعد ازاں ایک نئے قانونی اختیار کے تحت عارضی 10 فیصد ٹیرف جبکہ 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کی دفعہ 301 کے تحت عالمی ٹیرف بھی عائد کیے۔
تجارتی پالیسی میں ان تبدیلیوں کے باعث امریکی حکومت کی جانب سے ٹیرف وصولی اور اس کی قانونی حیثیت کا معاملہ بدستور عالمی تجارت اور امریکی کاروباری حلقوں میں اہم موضوع بنا ہوا ہے۔