مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

امریکی آرمی کے سویلین سربراہ مستعفی، وزیر دفاع سے جاری اختلافات کا ڈراپ سین

امریکی آرمی کے سویلین سربراہ مستعفی، وزیر دفاع سے جاری اختلافات کا ڈراپ سین

امریکی آرمی کے سویلین سربراہ مستعفی، وزیر دفاع سے جاری اختلافات کا ڈراپ سین

واشنگٹن، یکم ستمبر: امریکی آرمی کے سویلین سربراہ ڈین ڈرِسکول نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ کئی ماہ سے جاری اختلافات کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ان کی رخصتی کی تصدیق کردی ہے اور ڈرِسکول 3 ستمبر 2026 سے اپنے منصب سے الگ ہوجائیں گے۔

ڈرِسکول نے اپنا استعفیٰ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیا تھا۔ ابتدائی طور پر رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ وائٹ ہاؤس نے استعفیٰ باضابطہ طور پر قبول کیا ہے یا نہیں، تاہم بعد میں وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی کہ ڈرِسکول عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ڈرِسکول کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے، امریکی آرمی کی جنگی تیاری اور عسکری صلاحیتوں پر توجہ بحال کرنے اور روس و یوکرین کے درمیان مذاکرات میں معاونت میں مؤثر کردار ادا کیا۔ وائٹ ہاؤس نے ان کے دور میں امریکی آرمی کی صلاحیتوں میں اضافے کو بھی اجاگر کیا۔

ڈرِسکول نے 25 فروری 2025 کو سیکریٹری آف دی آرمی کا منصب سنبھالا تھا۔ یہ امریکی آرمی کا اعلیٰ ترین سویلین عہدہ ہے اور چیف آف اسٹاف آف دی آرمی سے الگ حیثیت رکھتا ہے۔ وہ عراق میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور نائب صدر جے ڈی وینس کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔

اختلافات کی بنیادی وجہ کیا تھی؟

رائٹرز کے مطابق ڈرِسکول اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے درمیان اختلافات آرمی کی جدید کاری، جنگی تیاری، دفاعی خریداری اور اعلیٰ فوجی قیادت میں تبدیلیوں سمیت متعدد معاملات پر بڑھتے رہے۔ ڈرِسکول آرمی کو جدید جنگی تقاضوں کے مطابق تیزی سے تبدیل کرنے اور دفاعی خریداری کے روایتی طریقہ کار کو زیادہ تیز اور لچکدار بنانے کے حامی تھے۔

ڈرِسکول نے کم لاگت اور تیزی سے تیار یا تعینات کیے جانے والے جدید جنگی نظام، خصوصاً ڈرون ٹیکنالوجی، پر زور دیا۔ ان کی جدید کاری کی کوششوں میں اعلیٰ فوجی افسران کے ساتھ قریبی تعاون بھی شامل تھا، تاہم ان میں سے کئی افسران بعد میں وزیر دفاع کی جانب سے عہدوں سے ہٹا دیے گئے یا ان کی ذمہ داریاں تبدیل کردی گئیں۔

جنرل رینڈی جارج کی برطرفی اہم موڑ

ڈرِسکول اور ہیگسیتھ کے درمیان کشیدگی اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب وزیر دفاع نے اپریل میں آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹا دیا۔ رپورٹس کے مطابق ڈرِسکول کو اس فیصلے کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، جس کے بعد دونوں کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہوگئے۔

جنرل جارج کی جگہ جنرل کرسٹوفر لیناوے نے قائم مقام چیف آف اسٹاف کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ جون میں امریکی آرمی کی یورپ اور افریقہ میں کمان کرنے والے جنرل کرسٹوفر ڈوناہو بھی اپنے عہدے سے الگ ہوگئے، جس سے آرمی کی اعلیٰ قیادت میں تبدیلیوں کا سلسلہ مزید نمایاں ہوا۔

ڈرونز اور جدید جنگی ٹیکنالوجی

ڈرِسکول کے دور میں آرمی کی جدید کاری اور ڈرون ٹیکنالوجی کو نمایاں اہمیت حاصل رہی۔ وہ جدید جنگی میدان کے تقاضوں کے مطابق کم قیمت اور بڑی تعداد میں استعمال ہونے والے ڈرونز اور دیگر ٹیکنالوجی پر مبنی نظاموں کو تیزی سے آرمی کا حصہ بنانے کے حامی تھے۔

تاہم ڈرِسکول کے بعد آرمی کی قیادت نے بعض پروگراموں کی سمت تبدیل کرنا شروع کردی۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق قائم مقام آرمی چیف جنرل کرسٹوفر لیناوے نے ایک ڈرون جدید کاری پروگرام ختم کرنے کی ہدایت کی، جسے ڈرِسکول نے پہلے نمایاں طور پر آگے بڑھایا تھا۔

روس اور یوکرین مذاکرات میں کردار

ڈرِسکول نے ٹرمپ انتظامیہ کی روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات میں بھی کردار ادا کیا۔ وائٹ ہاؤس نے ان کی خدمات میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں معاونت کو بھی نمایاں کیا ہے۔

پینٹاگون میں قیادت کا بحران

ڈرِسکول کی رخصتی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی آرمی کی اعلیٰ قیادت پہلے ہی بڑی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ ان کے استعفے کے بعد آرمی کے اعلیٰ ترین سویلین عہدے پر نئی تقرری ضروری ہوگی، جبکہ فوجی قیادت میں بھی قائم مقام سربراہ ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں امریکی آرمی کے پاس اس وقت سینیٹ سے توثیق شدہ اعلیٰ سویلین یا فوجی سربراہ موجود نہیں رہے۔

رائٹرز کے مطابق آرمی کے ڈپٹی انڈر سیکریٹری برائے جدت ڈیو فٹزجیرالڈ کے بھی عہدہ چھوڑنے کی توقع ہے، جس سے آرمی میں جاری اعلیٰ سطح کی تبدیلیوں کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے۔

ڈرِسکول کی رخصتی کے بعد اب توجہ صدر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئے آرمی سیکریٹری کے انتخاب پر مرکوز ہوگی۔ اہم سوال یہ ہوگا کہ نئی سویلین قیادت جدید کاری، ڈرون ٹیکنالوجی، دفاعی خریداری اور جنگی تیاری سے متعلق ڈرِسکول کی پالیسی ترجیحات کو جاری رکھتی ہے یا ان میں بنیادی تبدیلیاں لاتی ہے۔

ڈرِسکول کا استعفیٰ پینٹاگون میں اعلیٰ سطح کی قیادت میں جاری تبدیلیوں کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے اور اس نے امریکی آرمی کی قیادت، پالیسی کے تسلسل اور مستقبل کی جدید کاری کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں