مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

امریکی سیاسی حلقوں میں زیر بحث، ٹرمپ کی قریبی معاون ناتالی ہارپ کون ہیں

تصویر

امریکی سیاسی حلقوں میں زیر بحث، ٹرمپ کی قریبی معاون ناتالی ہارپ کون ہیں!

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 35 سالہ قریبی معاون ناتالی ہارپ گزشتہ چند روز سے امریکی سیاسی اور میڈیا حلقوں میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ ٹرمپ کے ساتھ ان کی مسلسل موجودگی، صدر تک براہ راست رسائی اور وائٹ ہاؤس میں ان کے کردار نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم ٹرمپ اور ناتالی ہارپ کے درمیان کسی رومانوی یا غیر مناسب تعلق کا کوئی مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔

ناتالی ہارپ صدر ٹرمپ کی ایگزیکٹو اسسٹنٹ اور اسپیشل اسسٹنٹ ٹو دی پریزیڈنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مالیاتی ریکارڈ کے مطابق انہیں 20 جنوری 2025 کو اس عہدے پر مقرر کیا گیا تھا۔

ناتالی ہارپ گزشتہ کئی برس سے ٹرمپ کے سیاسی حلقے سے وابستہ ہیں۔ وہ 2019 میں اس وقت نمایاں ہوئیں جب انہوں نے ٹرمپ کی جانب سے دستخط کیے گئے ’’رائٹ ٹو ٹرائی‘‘ قانون کو اپنی صحت یابی میں مددگار قرار دیا۔ بعد ازاں وہ ٹرمپ کی 2020 کی صدارتی مہم کے مشاورتی بورڈ کا حصہ بنیں اور ریپبلکن نیشنل کنونشن سے بھی خطاب کیا۔

بعد میں ہارپ نے ون امریکا نیوز نیٹ ورک میں بطور ٹی وی میزبان کام کیا، تاہم 2022 کے بعد وہ دوبارہ ٹرمپ کے سیاسی حلقے میں شامل ہوگئیں اور بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں صدر کی قریبی معاونین میں شمار ہونے لگیں۔

ٹرمپ کے ساتھ کام کے دوران ہارپ کو ان کی غیر معمولی قربت اور صدر تک معلومات پہنچانے کے کردار کے باعث ’’ہیومن پرنٹر‘‘ کا لقب بھی دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق وہ ٹرمپ کے لیے انٹرنیٹ سے خبریں، مضامین اور دیگر مواد پرنٹ کرکے فراہم کرتی ہیں، جبکہ صدر کی بعض سوشل میڈیا سرگرمیوں میں بھی ان کا کردار بتایا جاتا ہے۔

حالیہ دنوں میں ہارپ کا نام اس وقت زیادہ نمایاں ہوا جب جارجیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جان اوسوف نے ایک انتخابی تقریب کے دوران ٹرمپ اور ان کی معاون کے حوالے سے طنزیہ تبصرہ کیا۔ اوسوف نے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے ہارپ کے ساتھ ان کے سفر اور مسلسل موجودگی کو سیاسی بحث کا موضوع بنایا۔

سینیٹر کے بیان کے بعد ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان سوشل میڈیا پر بحث شدت اختیار کرگئی، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی اوسوف کے بیان پر سخت ردعمل سامنے آیا۔ ٹرمپ کے مواصلاتی ڈائریکٹر اسٹیون چیونگ نے سینیٹر کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ صدر ٹرمپ نے بھی اوسوف کے تبصرے کو مسترد کیا۔

معاملہ مزید اس وقت نمایاں ہوگیا جب سی این این کی وائٹ ہاؤس نمائندہ کرسٹن ہومز نے ایک تقریب کے بعد صدر ٹرمپ سے ناتالی ہارپ کے حوالے سے سوال کیا۔ ٹرمپ نے سوال پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹر کو خاموش رہنے کا کہا اور اسے ’’فیک نیوز‘‘ قرار دیا۔

بعد ازاں وائٹ ہاؤس کے ایک سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بھی کرسٹن ہومز کے خلاف سخت اور ذاتی نوعیت کا بیان جاری کیا گیا، جس میں ان کے بچوں کا حوالہ بھی دیا گیا۔ سی این این نے اس ردعمل پر وائٹ ہاؤس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنی رپورٹر کا دفاع کیا۔

ناتالی ہارپ کی صدر ٹرمپ تک غیر معمولی رسائی بھی موجودہ بحث کا اہم پہلو ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق وہ ٹرمپ کے انتہائی قریبی معاونین میں شامل ہیں اور متعدد مواقع پر صدر کے ساتھ اندرون و بیرون ملک سفر بھی کرچکی ہیں۔ بعض حساس مواقع پر ان کی صدر کے ساتھ موجودگی نے بھی ان کے کردار اور اثر و رسوخ کو نمایاں کیا ہے۔

ہارپ اور ٹرمپ کے تعلق کی نوعیت پر پہلے بھی میڈیا میں بحث ہوتی رہی ہے۔ حالیہ کتابی رپورٹنگ میں بھی ہارپ کی جانب سے ٹرمپ کے لیے انتہائی عقیدت مندانہ انداز میں نجی نوٹس چھوڑنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان رپورٹس کے باعث صدر کے ساتھ ان کی غیر معمولی قربت کے بارے میں قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم اس معاملے میں مصدقہ حقائق اور قیاس آرائیوں کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ناتالی ہارپ کا ٹرمپ کی قریبی معاون ہونا، صدر کے ساتھ ان کی مسلسل موجودگی اور انہیں حاصل غیر معمولی رسائی قابلِ رپورٹ حقائق ہیں، لیکن دونوں کے درمیان کسی رومانوی یا جنسی تعلق کا کوئی مستند ثبوت سامنے نہیں آیا۔

یوں ناتالی ہارپ کا معاملہ فی الحال کسی ثابت شدہ اسکینڈل کے بجائے ٹرمپ کے اندرونی حلقے، صدر تک معاونین کی رسائی، ان کے اثر و رسوخ اور سیاسی مخالفین کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کے باعث امریکی سیاست اور میڈیا میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں