مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

امریکی محکمہ جنگ/ پینٹاگون میں بھونچال، ایران جنگ کے دوران حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹ

امریکی محکمہ جنگ/ پینٹاگون میں بھونچال، ایران جنگ کے دوران حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹ

امریکی محکمہ جنگ/ پینٹاگون میں بھونچال، ایران جنگ کے دوران حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹ

واشنگٹن، 5 ستمبر: ایران جنگ کے دوران امریکی فوج کے جنگی ذخائر اور اسلحے کی دستیابی سے متعلق حساس معلومات میڈیا کو لیک ہونے کی تحقیقات کے سلسلے میں امریکی حکومت نے جوائنٹ اسٹاف سے وابستہ تقریباً 50 فوجی افسران اور سویلین اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹ کیے ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقات کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ امریکی فوج کے اہم جنگی ذخائر میں کمی سے متعلق خفیہ معلومات میڈیا تک کس ذریعے سے پہنچیں اور ان معلومات کو صحافیوں کے ساتھ شیئر کرنے والا شخص کون تھا۔ حکام نے خاص طور پر ان اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی جنہیں امریکی جنگی صلاحیتوں اور اسلحے کے ذخائر سے متعلق محدود اور حساس معلومات تک رسائی حاصل تھی۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکی فوج کی جانب سے بعض انتہائی اہم اور محدود مقدار میں دستیاب جنگی ہتھیار تیزی سے استعمال کیے گئے۔ میڈیا میں ایسی رپورٹس سامنے آئیں کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس انٹرسیپٹرز سمیت بعض اہم امریکی جنگی ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

انہی رپورٹس نے امریکی حکام کی تشویش میں اضافہ کیا، کیونکہ اس نوعیت کی معلومات نہ صرف امریکی فوج کی موجودہ جنگی صلاحیت کے بارے میں حساس تفصیلات فراہم کرتی ہیں بلکہ ممکنہ دشمنوں کو امریکی فوج کی رسد، ذخائر اور مستقبل کی کارروائیوں سے متعلق اہم اندازے لگانے میں بھی مدد دے سکتی ہیں۔

تحقیقات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ان مخصوص ہتھیاروں اور ذخائر سے متعلق معلومات تک رسائی انتہائی محدود تھی۔ اسی وجہ سے حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ محدود رسائی رکھنے والے افراد میں سے کس نے معلومات صحافیوں یا دیگر غیر مجاز افراد تک پہنچائیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق حکام نے پولی گراف ٹیسٹ کے دوران اہلکاروں سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا انہوں نے خفیہ معلومات براہ راست یا بالواسطہ طور پر صحافیوں کو فراہم کیں۔ تفتیش کاروں کی توجہ خاص طور پر ایران جنگ کے دوران امریکی اسلحہ ذخائر میں کمی سے متعلق میڈیا رپورٹس کے ذرائع کا سراغ لگانے پر مرکوز رہی۔

تحقیقات کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ آیا حساس معلومات کے افشا کے پیچھے صرف غیر مجاز معلومات کا اخراج تھا یا کوئی زیادہ سنگین سکیورٹی مسئلہ بھی موجود تھا۔ بعض امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام اس امکان پر بھی غور کر رہے تھے کہ اتنی محدود معلومات تک رسائی رکھنے والا کوئی سرکاری اہلکار کسی غیر ملکی جاسوسی سرگرمی سے منسلک تو نہیں۔

تاہم تقریباً 50 اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹ کے باوجود ایسا کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر مبینہ لیک کے ذمہ دار شخص کی حتمی شناخت کی جا سکے۔ امریکی حکام نے اس تحقیقات کے نتیجے میں کسی اہلکار کو لیک کا ذمہ دار قرار دینے کا اعلان بھی نہیں کیا۔

پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے داخلی اہلکاروں یا جاری تحقیقات کے بارے میں تفصیلات دینے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ محکمہ دفاع قومی سلامتی سے متعلق خفیہ معلومات کے ہر لیک کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے اور ایسے معاملات کی تحقیقات کرتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پولی گراف ٹیسٹ اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہیں جس کے ذریعے پینٹاگون ایران جنگ کے دوران خفیہ معلومات کے متعدد غیر مجاز افشا کے ذرائع تلاش کر رہا ہے۔ ان میں اسلحہ ذخائر سے متعلق معلومات کے علاوہ محکمہ دفاع کی اعلیٰ سطحی منصوبہ بندی اور حساس دستاویزات سے متعلق لیکس بھی شامل ہیں۔

ایران جنگ کے دوران امریکی فوج کی جانب سے جدید اور محدود تعداد میں دستیاب ہتھیاروں کے استعمال کی رفتار پہلے ہی امریکی دفاعی منصوبہ سازوں کے لیے اہم مسئلہ بن چکی تھی۔ ایسے میں ان ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کی تفصیلات کا منظر عام پر آنا امریکی فوج کی آپریشنل تیاری اور مستقبل کی جنگی ضروریات کے حوالے سے حساس معاملہ سمجھا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی امریکی جنگی صلاحیتوں اور اسلحہ ذخائر سے متعلق میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے بعض افشا شدہ معلومات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا۔

امریکی حکام کی جانب سے تقریباً 50 اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹ کیے جانے کو اس لیے بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ جوائنٹ اسٹاف تک پھیلا ہوا ہے، جو صدر، وزیر دفاع اور قومی سلامتی سے متعلق اعلیٰ حکام کو فوجی امور پر مشاورت فراہم کرتا ہے۔

تحقیقات بدستور جاری ہیں اور امریکی حکام اب بھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران جنگ کے دوران امریکی ہتھیاروں کے ذخائر، جنگی صلاحیت اور آپریشنل تیاری سے متعلق انتہائی حساس معلومات میڈیا تک کس ذریعے سے پہنچیں اور آیا اس لیک سے امریکی قومی سلامتی کو کوئی نقصان پہنچا یا نہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں