ایجبسٹن برمنگھم: جہاں آج تک پاکستان کوئی ٹیسٹ نہیں جیت سکا، 9 ستمبر کو نویں بار انگلینڈ کے مدمقابل ہوگا

ایجبسٹن برمنگھم: جہاں آج تک پاکستان کوئی ٹیسٹ نہیں جیت سکا، 9 ستمبر کو نویں بار انگلینڈ کے مدمقابل ہوگا
برمنگھم: تاریخ بدلنے کا وقت آگیا، مگر چیلنج انتہائی سخت ہے! پاکستان کرکٹ ٹیم 9 ستمبر کو برمنگھم کے تاریخی ایجبسٹن گراؤنڈ میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے لیے میدان میں اترے گی، جہاں قومی ٹیم کے سامنے صرف سیریز میں وائٹ واش سے بچنے کا نہیں بلکہ ایک ایسا ریکارڈ توڑنے کا بھی امتحان ہوگا جو 64 برس سے برقرار ہے۔
پاکستان نے ایجبسٹن میں انگلینڈ کے خلاف اب تک 8 ٹیسٹ کھیلے ہیں، لیکن ایک بھی میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ انگلینڈ نے 4 مقابلے جیتے جبکہ 4 ٹیسٹ ڈرا ہوئے۔ اب 9 ستمبر سے شروع ہونے والا ٹیسٹ اس میدان پر دونوں ٹیموں کا نواں مقابلہ ہوگا۔
یعنی پاکستان کے پاس تاریخ بدلنے کا ایک اور موقع ہے، لیکن صورتحال اس لیے بھی مشکل ہے کہ موجودہ سیریز میں انگلینڈ پہلے ہی دونوں ٹیسٹ جیت کر 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرچکا ہے۔ انگلینڈ نے پہلے ٹیسٹ میں اننگز اور 103 رنز جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں 194 رنز سے پاکستان کو شکست دی۔
ایجبسٹن کی کہانی پاکستان کے لیے کبھی آسان نہیں رہی۔
1962 میں اس میدان پر پاکستان اور انگلینڈ پہلی بار ٹیسٹ میں آمنے سامنے آئے اور میزبان ٹیم نے اننگز اور 24 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ یوں پاکستان کا ایجبسٹن سفر شکست سے شروع ہوا۔
پھر 1971 میں ایسا لمحہ آیا جسے پاکستانی کرکٹ آج بھی فخر سے یاد کرتی ہے۔
ظہیر عباس نے ایجبسٹن میں انگلینڈ کے خلاف 274 رنز کی ایسی یادگار اننگز کھیلی جو آج بھی اس میدان پر کسی پاکستانی بلے باز کا سب سے بڑا انفرادی اسکور ہے۔ پاکستان نے 608 رنز 7 وکٹوں پر اننگز ڈکلیئر کی، لیکن اتنی بڑی بیٹنگ کارکردگی بھی پاکستان کو فتح نہ دلا سکی اور میچ ڈرا ہوگیا۔
1978 میں پاکستان ایک مرتبہ پھر ایجبسٹن میں مشکلات کا شکار ہوا اور انگلینڈ نے اننگز اور 57 رنز سے کامیابی حاصل کی۔
1982 میں عمران خان نے گیند کے ساتھ شاندار کارکردگی دکھائی، لیکن پاکستان پھر بھی میدان مارنے میں ناکام رہا۔ انگلینڈ نے یہ مقابلہ 113 رنز سے جیت لیا۔
1987 میں مدثر نذر نے 124 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔ پاکستان نے بہتر مزاحمت کی، لیکن میچ ڈرا ہوگیا اور ایجبسٹن پر فتح کا خواب بدستور ادھورا رہا۔
1992 میں جاوید میانداد اور سلیم ملک نے انگلینڈ کے خلاف ایجبسٹن میں پاکستان کی بیٹنگ کی طاقت کا شاندار مظاہرہ کیا۔ دونوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 322 رنز کی بڑی شراکت قائم کی۔ میانداد 153 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ سلیم ملک نے 165 رنز بنائے۔ پاکستان نے 446 رنز 4 وکٹوں پر اننگز ڈکلیئر کی، لیکن ایک بار پھر فتح ہاتھ نہ آئی اور میچ ڈرا ہوگیا۔
پھر 18 سال کا طویل وقفہ آیا۔
2010 میں پاکستان ایجبسٹن واپس آیا تو قومی ٹیم صرف 72 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ انگلینڈ نے میچ 9 وکٹوں سے جیت لیا اور پاکستان کی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔
2016 میں پاکستان نے تاریخ بدلنے کا سب سے بڑا موقع پیدا کیا۔ قومی ٹیم نے پہلی اننگز میں 400 رنز بنائے، انگلینڈ کو 297 رنز پر آؤٹ کیا اور 103 رنز کی برتری حاصل کرلی۔ بظاہر پاکستان مضبوط پوزیشن میں تھا، لیکن دوسری اننگز میں انگلینڈ نے شاندار کم بیک کیا اور بالآخر پاکستان کو 141 رنز سے شکست دے دی۔
یہی ایجبسٹن کی تلخ حقیقت ہے: پاکستان یہاں مضبوط پوزیشن میں پہنچا، بڑے انفرادی کارنامے انجام دیے، لیکن فتح پھر بھی اس کے ہاتھ نہ آئی۔
اب 2026 کا وقت ہے۔
9 ستمبر سے پاکستان کے پاس ایجبسٹن کی تاریخ بدلنے کا نواں موقع ہوگا۔ قومی ٹیم 10 سال بعد اس میدان میں ٹیسٹ کھیلنے واپس آرہی ہے، لیکن اس مرتبہ اسے ایک اور مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ انگلینڈ سیریز پہلے ہی اپنے نام کرچکا ہے اور اب میزبان ٹیم 3-0 کی کلین سوئپ فتح کے لیے میدان میں اترے گی۔
پاکستان کے لیے یہ میچ محض سیریز کا آخری ٹیسٹ نہیں ہوگا۔ یہ ایک ایسے میدان میں تاریخ بدلنے کی جنگ بھی ہوگی جہاں ظہیر عباس کے 274 رنز، عمران خان کی شاندار باؤلنگ، مدثر نذر کی سنچری اور میانداد و سلیم ملک کی 322 رنز کی شراکت بھی پاکستان کو فتح نہ دلا سکی۔
اور اب سوال صرف ایک ہے:
کیا پاکستان 9 ستمبر کو ایجبسٹن کا قلعہ فتح کرکے 64 سال پرانا انتظار ختم کر دے گا، یا ایک بار پھر اس تاریخی میدان سے خالی ہاتھ واپس آئے گا؟
تیسرا ٹیسٹ 9 سے 13 ستمبر تک ایجبسٹن، برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔