مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ایران، مصر اور الجزائر بھی مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں، روسی وزیر خارجہ

ایران، مصر اور الجزائر بھی مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں، روسی وزیر خارجہ

ایران، مصر اور الجزائر بھی مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں، روسی وزیر خارجہ

ماسکو: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ایران کی شمولیت کے لیے مناسب شرائط طے کرلی جائیں تو یہ خطے میں سلامتی کے لیے ایک انتہائی عملی اور مثبت قدم ہوگا۔

سرگئی لاوروف نے یہ بات 7 ستمبر 2026 کو ماسکو میں ماسکو اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (MGIMO) میں طلبہ اور فیکلٹی سے خطاب کے دوران کہی۔ انادولو ایجنسی کے مطابق روسی وزیر خارجہ نے مکہ معاہدے کو خلیج میں اجتماعی سلامتی اور دفاعی تعاون کے ایک فریم ورک کے طور پر پیش کرتے ہوئے ایران کو اس میں شامل کرنے کی حمایت کی۔

لاوروف نے کہا کہ مکہ معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ایک اجتماعی دفاعی تصور پیش کرتا ہے اور اس کے بانی ممالک نے واضح کیا ہے کہ اس کا دروازہ دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے، جن میں خلیج سے باہر کے ممالک بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ مصر کا ذکر اکثر ممکنہ شریک ملک کے طور پر کیا جاتا ہے، جبکہ اگر الجزائر بھی اس نظام میں دلچسپی ظاہر کرے تو یہ بھی مثبت پیش رفت ہوگی۔ ان کے بقول، اگر مستقبل میں یہ ڈھانچہ ان شرائط پر اتفاق کرلے جن کے تحت ایران اس عمل میں شامل ہوسکتا ہے تو یہ روس کی جانب سے برسوں پہلے پیش کیے گئے علاقائی سلامتی کے تصور کو عملی شکل دینے کی سمت ایک انتہائی اہم قدم ہوگا۔

لاوروف نے کہا کہ روس نے دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ قبل خلیج کے عرب ممالک اور ایران کو ایک علاقائی سلامتی کا تصور تشکیل دینے کے لیے مذاکرات کی میز پر لانے کی تجویز پیش کی تھی۔ ان کے مطابق اس تصور کا مقصد خطے کے ممالک کے درمیان اختلافات پر بات چیت، باہمی شکایات کے ازالے اور اعتماد سازی کے اقدامات کے ذریعے ایک ایسا سکیورٹی نظام قائم کرنا تھا جس میں علاقائی ممالک خود اہم کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ روس کی تجویز یہ تھی کہ اس عمل میں عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کو بھی شامل کیا جائے تاکہ علاقائی سلامتی کے معاملات پر وسیع تر سطح پر بات چیت ہوسکے۔

روسی وزیر خارجہ نے مکہ معاہدے کو اسی وسیع تر علاقائی سلامتی کے تصور کے تناظر میں اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں خطے کے ممالک کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں اور ایک دوسرے کے لیے خطرات پیدا کرنے کے بجائے باہمی سلامتی کے ایسے طریقہ کار تشکیل دینے چاہئیں جن سے کشیدگی میں کمی آئے۔

لاوروف نے کہا کہ حالیہ برسوں میں سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بھی بہتری آئی تھی اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں چین کے اقدام اور روس کی حوصلہ افزائی نے بھی کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے موجودہ علاقائی حالات کو اس بات کی مثال قرار دیا کہ خطے کے ممالک کے درمیان سلامتی اور تعاون کے لیے نئے انتظامات کی ضرورت موجود ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ روس اس عمل میں قیادت یا برتری حاصل کرنے کا خواہش مند نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روس نے علاقائی سلامتی کے حوالے سے اپنا تصور پہلے ہی پیش کیا تھا، تاہم اگر خطے کے ممالک اپنے طور پر کوئی ایسا نظام تشکیل دیتے ہیں تو ماسکو اسے مثبت پیش رفت تصور کرے گا۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک کے خلاف مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا اور تینوں ممالک اجتماعی دفاع کے لیے تعاون کریں گے۔

معاہدے میں تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ سلامتی اور فوجی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کا فریم ورک بھی شامل ہے۔ بعد ازاں ترکیہ نے واضح کیا تھا کہ معاہدے کے تحت وزرائے دفاع اور دیگر حکام کے درمیان رابطوں، مشترکہ مشقوں اور دفاعی صنعت میں تعاون کے طریقہ کار کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

سرگئی لاوروف کا تازہ بیان اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ اس سے مکہ دفاعی معاہدے کو صرف تین ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بجائے مستقبل میں دیگر علاقائی ممالک کے لیے بھی ممکنہ سکیورٹی فریم ورک کے طور پر دیکھنے کی روسی خواہش سامنے آتی ہے۔

تاہم لاوروف نے یہ اعلان نہیں کیا کہ ایران کو مکہ دفاعی معاہدے میں شامل کرلیا گیا ہے یا تہران کو باضابطہ دعوت دی گئی ہے۔ ان کا بیان بنیادی طور پر اس امکان کی حمایت پر مبنی تھا کہ اگر معاہدے میں شامل ممالک ایران کی شرکت کے لیے قابل قبول شرائط پر اتفاق کرلیں تو تہران کی شمولیت علاقائی سلامتی کے لیے ایک اہم عملی قدم ثابت ہوسکتی ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں