ایرانی حملے خطرناک کشیدگی کی علامت، تجارتی جہازوں کی سلامتی کو براہِ راست خطرہ ہے: سعودی عرب

ایرانی حملے خطرناک کشیدگی کی علامت، تجارتی جہازوں کی سلامتی کو براہِ راست خطرہ ہے: سعودی عرب
جدہ: سعودی عرب نے تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز پر ایران کے بار بار حملوں کو خطرناک کشیدگی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں سمندری آمدورفت کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
سعودی گزٹ کے مطابق سعودی کابینہ نے منگل کو جدہ میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت اجلاس میں ایرانی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ کابینہ نے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے اجلاس کے بعد سعودی پریس ایجنسی کو بتایا کہ کابینہ نے تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے اور آبنائے ہرمز سمیت اہم آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
کابینہ نے دوست ممالک کے ساتھ سعودی عرب کے حالیہ مذاکرات اور مشاورت کا بھی جائزہ لیا، جن کا مقصد مختلف شعبوں میں دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دینا، مشترکہ مفادات حاصل کرنا اور علاقائی و عالمی امن و استحکام کی حمایت کرنا ہے۔
اجلاس میں سعودی قیادت میں قائم کثیر ملکی بحری دفاعی اتحاد کو ادارہ جاتی اور عملی طور پر فعال بنانے کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق اتحاد کے تنظیمی اور منصوبہ بندی کے ڈھانچے مکمل ہونے کے بعد یہ مشترکہ کارروائی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔
بحری دفاعی اتحاد کا مقصد مشترکہ بحری سلامتی کو مضبوط بنانا، آبنائے ہرمز سمیت اہم آبی گزرگاہوں میں آزادانہ جہاز رانی کا تحفظ اور عالمی تجارت و سپلائی چین کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔
کابینہ نے سعودی عرب اور سوڈان کے درمیان رابطہ کونسل کے قیام کو بھی دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔ کونسل کے ذریعے مختلف شعبوں میں تعاون، مشترکہ منصوبوں اور اقدامات کو آگے بڑھایا جائے گا۔
اجلاس میں سعودی عرب کی جانب سے اقوام متحدہ کے صحرائی علاقوں اور خشک سالی سے نمٹنے سے متعلق کانفرنس کی 16ویں نشست کی کامیاب میزبانی کو بھی سراہا گیا۔ کابینہ نے کہا کہ کانفرنس کے دوران زمین کی تباہی، صحرائی پھیلاؤ اور خشک سالی سے نمٹنے، پانی و غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اور ماحول کے تحفظ کے لیے متعدد بین الاقوامی شراکت داریوں اور اقدامات کا آغاز ہوا۔
سعودی کابینہ نے 19 اگست کو منائے جانے والے عالمی یوم انسانی ہمدردی کے موقع پر بھی مملکت کے عالمی سطح پر انسانی امداد اور آفات سے متاثرہ ممالک و برادریوں کی مدد کے کردار کو سراہا۔
اجلاس میں نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل تعلیمی شعبے کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی 2025 میں آمدن اور خالص منافع میں اضافے سمیت مالی کارکردگی کو سراہا گیا۔ کابینہ نے مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور جدید مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں فنڈ کی سرمایہ کاری کو بھی اقتصادی تنوع کے لیے اہم قرار دیا۔
کابینہ نے سعودی سرکاری اداروں کی 2026 کے ڈیجیٹل تجربے کی پختگی کے اشاریے میں پیش رفت کو بھی سراہا اور شہریوں، مقیم افراد اور زائرین کو بہتر ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید بڑھانے پر زور دیا۔
اجلاس میں سعودی عرب اور ملائیشیا کے درمیان پُرامن جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال میں سلامتی، تحفظ اور حفاظتی اقدامات کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت کے مسودے پر مذاکرات اور دستخط کی اجازت بھی دی گئی۔
اس کے علاوہ سعودی عرب اور کویت کے درمیان سرکاری و نجی شراکت داری، سعودی عرب اور تیونس کے درمیان صارفین کے تحفظ، جبکہ سعودی زکوٰۃ، ٹیکس و کسٹمز اتھارٹی اور نیوزی لینڈ کسٹمز سروس کے درمیان کسٹمز امور میں باہمی انتظامی معاونت سے متعلق معاہدوں کی بھی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے بدعنوانی کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عالمی عملی نیٹ ورک کے ارکان کے درمیان معلومات کے تبادلے سے متعلق معاہدے کے مسودے کی منظوری اور قومی مرکز برائے نصاب کے تنظیمی ڈھانچے کی بھی منظوری دی۔