ایران اور اومان کا آبنائے ہرمز میں نئے بحری راستے پر اتفاق، چند روز میں اعلان متوقع، محسن رضائی

ایران اور اومان کا آبنائے ہرمز میں نئے بحری راستے پر اتفاق، چند روز میں اعلان متوقع، محسن رضائی
تہران: ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران اور اومان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے نئے بحری راستے کے نقشے کو حتمی شکل دے دی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اس حوالے سے باضابطہ مفاہمت پر آئندہ چند روز میں دستخط متوقع ہیں۔
محسن رضائی کے مطابق نئے بحری راستے سے متعلق نقشوں پر ایران اور اومان کے درمیان اتفاق ہوگیا ہے اور باضابطہ دستخط کے بعد نئے راستے کا اعلان کردیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک متبادل اور زیادہ منظم راستہ فراہم کرنا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں سے عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک نئے محدود بحری زون کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اس زون میں داخل ہونے والے جہازوں کو ایرانی پابندیوں یا کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایران اور اومان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے مذاکرات کئی ہفتوں سے جاری ہیں۔ اس سے قبل دونوں ممالک نے عارضی مشترکہ بحری راہداری کے قیام اور آبنائے میں ممکنہ بارودی سرنگوں کی صفائی سے متعلق تعاون پر بھی بات چیت کی تھی۔
نئے بحری راستے پر اتفاق کو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت بحال کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے باعث نئے راستے پر عملی طور پر بحری ٹریفک کب مکمل طور پر بحال ہوگی، اس بارے میں ابھی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔