ایران میں حکومت تبدیلی میں ناکامی، موساد سربراہ نے دو سینئر افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا

ایران میں حکومت تبدیلی میں ناکامی، موساد سربراہ نے دو سینئر افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا
یروشلم: اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے سربراہ رومن گوفمین نے ایران میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق مبینہ منصوبہ ناکام ہونے کے بعد ایجنسی کے دو سینئر افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔
اسرائیلی اخبار “دی یروشلم پوسٹ” کی رپورٹ کے مطابق عہدوں سے ہٹائے جانے والے افسران میں موساد کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ اور ایران ڈویژن کے سربراہ شامل ہیں۔ اگرچہ ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، تاہم سکیورٹی ذرائع کے مطابق دونوں افسران کو موساد کے اندر دیگر ذمہ داریاں دی جا سکتی ہیں اور یہ فیصلے ادارے میں جاری تنظیمِ نو کا حصہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دونوں افسران نے ایران میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق ایک خفیہ منصوبہ تیار کیا تھا، جسے بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے بھی پیش کیا گیا، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ موساد کی قیادت کا مؤقف ہے کہ منصوبے کی ناکامی پر ذمہ دار افسران کا احتساب ضروری تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ منصوبے کے تحت کرد زمینی فورسز کو اسرائیل اور امریکا کی فضائی معاونت سے ایران میں داخل ہونا تھا، جبکہ ملک کے اندر مختلف نسلی اقلیتوں کی مدد سے اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودہ قیادت کو ہٹا کر متبادل حکومت قائم کرنے کی کوشش کی جانی تھی۔
دی یروشلم پوسٹ کے مطابق سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کا نام بھی ممکنہ متبادل قیادت کے طور پر زیر غور آیا تھا، تاہم منصوبہ ابتدائی مرحلے میں ہی تعطل کا شکار ہو گیا اور عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موساد کے سربراہ کی جانب سے کیے گئے حالیہ فیصلوں کو ایران سے متعلق انٹیلی جنس حکمت عملی میں تبدیلی اور ایجنسی کے اندر احتسابی عمل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اسرائیلی حکام نے اس معاملے پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔