ایران پر حملے کا فیصلہ درست تھا، بڑا مقصد حاصل کر لیا، حملہ نہ کرتے تو وہ ایٹمی ہتھیار بنا لیتا، ٹرمپ

ایران پر حملے کا فیصلہ درست تھا، بڑا مقصد حاصل کر لیا، حملہ نہ کرتے تو وہ ایٹمی ہتھیار بنا لیتا، ٹرمپ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کا فیصلہ درست تھا اور امریکا نے اس کارروائی کا اپنا بڑا مقصد حاصل کر لیا ہے، کیونکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا گیا۔
ٹرمپ نے برطانوی نیوز چینل GB News کی صحافی بیو ٹرنر کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف کارروائی نہ کی ہوتی تو تہران جوہری ہتھیار تیار کر لیتا۔ ٹرمپ کے بقول ایران امریکی کارروائی سے قبل جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ چکا تھا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں نے ایران کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو شکست دی جا چکی ہے جبکہ ایرانی فوجی ڈھانچے اور قیادت کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات اور فوجی صلاحیتوں کو اس حد تک نقصان پہنچایا ہے کہ ایران کے لیے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ مؤثر انداز میں بحال کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔ تاہم ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم ہونے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
امریکی صدر نے ایران کے نئے دفاعی نظام کے خلاف کارروائی کا بھی دعویٰ کیا۔ ان کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب نئے ریڈار اور میزائل نظام نصب کرنے کی کوشش کی جنہیں امریکی فورسز نے نشانہ بنایا۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو اس اہم بحری گزرگاہ پر کنٹرول حاصل ہے اور امریکی فوجی کارروائیوں کے باوجود وہاں بحری جہازوں کی آمدورفت جاری ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری سرگرمیوں کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے امریکی صدر کے دعوے کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
ٹرمپ نے ایران پر اقتصادی دباؤ جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا۔ ان کے مطابق امریکی فوجی کارروائی کے ساتھ اقتصادی پابندیوں اور دیگر اقدامات کے ذریعے تہران پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے اور ایرانی معیشت شدید مشکلات سے دوچار ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی مہم زیادہ عرصے تک جاری نہیں رہے گی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ اپنی فوجی یا جوہری صلاحیتیں بحال کرنے کی کوشش کی تو امریکا مزید کارروائی کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں امریکی کارروائی کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ’’پہلے ہی جیت چکا ہے‘‘ کیونکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ امریکی حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے خطے میں امریکی اور اتحادی اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل اور عالمی توانائی کی قیمتوں پر بھی جنگ کے اثرات نمایاں ہیں۔