مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ایشین گیمز میں کھلاڑیوں کی روپوشی روکنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں، کرنل (ر) آصف ڈار

ایشین گیمز میں کھلاڑیوں کی روپوشی روکنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں، کرنل (ر) آصف ڈار

ایشین گیمز میں کھلاڑیوں کی روپوشی روکنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں، کرنل (ر) آصف ڈار

لاہور: پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ کے انسائیکلوپیڈیا اور پاکستان ٹینس فیڈریشن کے سابق سیکرٹری کرنل (ر) آصف ڈار نے جاپان میں رواں ماہ ہونے والے ایشین گیمز کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں اور آفیشلز کی ممکنہ روپوشی روکنے کیلئے حکومت اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن سے فوری طور پر ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ ورلڈ یونیورسٹی گیمز جرمنی اور کامن ویلتھ گیمز گلاسگو میں پاکستانی کھلاڑیوں کے غائب ہونے کے واقعات سے ملک کی بدنامی ہوئی، اس لئے ایشین گیمز میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے پیشگی انتظامات ناگزیر ہیں۔

کرنل آصف ڈار کے مطابق ایشین گیمز کے 248 رکنی قومی دستے میں شامل 93 کھلاڑیوں اور آفیشلز کے اخراجات حکومت برداشت کر رہی ہے، جبکہ 155 افراد اپنے خرچ پر جاپان جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایکریڈیٹیشن اور رجسٹریشن کی تمام تر ذمہ داری پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن پر عائد ہوتی ہے، اس لئے کسی بھی کھلاڑی یا آفیشل کے غائب ہونے کی صورت میں جواب دہی بھی پی او اے کی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جاپان کی مضبوط معیشت اور روزگار کے وسیع مواقع کے باعث ماضی میں فٹبال ٹیم سمیت پاکستانی دستوں کے ارکان کے روپوش ہونے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ حالیہ گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں غائب ہونے والے پاکستانی باکسر کا بھی تاحال سراغ نہیں مل سکا، جس سے ملک کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

آصف ڈار نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں بعض کھیلوں کی فیڈریشنوں پر مبینہ طور پر پیسے لے کر کھلاڑیوں کو غائب کروانے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ ٹورنٹو، کینیڈا میں کبڈی کے متعدد اوسط درجے کے کھلاڑیوں کے غائب ہونے کے واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑی تھے۔

انہوں نے کہا کہ 155 کھلاڑیوں اور آفیشلز کو ذاتی اخراجات پر جاپان جانے کی اجازت دے کر حکومت نے کھیلوں کی فیڈریشنوں کو کھلی چھٹی دے دی ہے، جبکہ ان میں سے کسی کے میڈل جیتنے کے امکانات بھی واضح نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایشین گیمز میں دوبارہ کھلاڑیوں کی روپوشی کے واقعات پیش آئے تو پاکستان کو مستقبل میں بین الاقوامی پابندیوں سمیت مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں