ایکنک نے لاہور–ساہیوال–بہاولنگر موٹروے منصوبے کی منظوری دے دی، 407 ارب روپے لاگت، 295 کلومیٹر روٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ

ایکنک نے لاہور–ساہیوال–بہاولنگر موٹروے منصوبے کی منظوری دے دی، 407 ارب روپے لاگت، 295 کلومیٹر روٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ
اسلام آباد: قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے لاہور–ساہیوال–بہاولنگر موٹروے منصوبے کی 407 ارب روپے لاگت کی منظوری دے دی، جبکہ منصوبے کا اصل 295 کلومیٹر روٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ منصوبے کے پہلے پیکیج کے تحت لاہور رنگ روڈ سے راجہ جنگ انٹرچینج تک 18.5 کلومیٹر موٹروے تعمیر کی جائے گی جس پر 49 ارب روپے لاگت آئے گی اور اس کی مکمل مالی معاونت وفاقی حکومت کرے گی۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری مختصر اعلامیے میں ایکنک سے منظور کیے گئے تمام منصوبوں کے نام اور ان کی لاگت ظاہر نہیں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اعلامیے میں لاہور–ساہیوال–بہاولنگر موٹروے کی منظوری کا ذکر بھی نہیں کیا گیا، حالانکہ ایکنک نے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ منصوبے کی مخالفت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے کی جاتی رہی ہے۔
ایکنک نے فیصلہ کیا کہ وزیراعظم کی رواں سال مارچ میں دی گئی ہدایت کے مطابق منصوبے کی اصل 295 کلومیٹر الائنمنٹ برقرار رکھی جائے گی۔ باقی حصوں کی تعمیر کے لیے سرکاری ترقیاتی پروگرام پر بھاری مالی بوجھ کے پیش نظر قابل عمل حصوں کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مالی معاونت کے امکانات تلاش کیے جائیں گے۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی قابل عمل قرار دیے جانے والے حصوں کے لیے اپنے محصولات سے وائبیلٹی گیپ فنڈنگ فراہم کرے گی، جبکہ جو حصے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت قابل عمل نہیں ہوں گے، ان کے لیے متبادل مالی ذرائع تلاش کیے جائیں گے۔
متبادل ذرائع میں پنجاب حکومت کی جانب سے مالی شراکت، بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے فنڈنگ اور وفاقی حکومت کے وسائل سے منصوبے کی تکمیل شامل ہیں، تاہم وفاقی فنڈنگ کا انحصار دستیاب مالی وسائل پر ہوگا۔
ایکنک نے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرصدارت اجلاس میں مجموعی طور پر تقریباً 1.15 کھرب روپے مالیت کے 16 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی۔ ان منصوبوں میں تقریباً 320 ارب روپے کی اضافی لاگت شامل ہے، جس کی بڑی وجوہات منصوبوں میں تاخیر اور قیمتوں میں اضافہ قرار دی گئی ہیں۔
اجلاس میں تربیلا ففتھ ایکسٹینشن منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت 316 ارب روپے بھی منظور کی گئی، جو ابتدائی تخمینے کے مقابلے میں 282 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ خوازہ خیلہ–بشام ایکسپریس وے سمیت توانائی، آبپاشی، تعلیم اور غربت کے خاتمے سے متعلق متعدد منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی۔
لاہور–ساہیوال–بہاولنگر موٹروے کی منظوری سے لاہور، قصور، ساہیوال، پاکپتن اور بہاولنگر سمیت جنوبی و وسطی پنجاب کے علاقوں کے درمیان رابطہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔