مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

باب المندب کے قریب حوثیوں کی پیش قدمی اور ایران کی وزارت خارجہ کا بیان: کشیدگی اور تشویش بڑھنے لگی

باب المندب کے قریب حوثیوں کی پیش قدمی اور ایران کی وزارت خارجہ کا بیان: کشیدگی اور تشویش بڑھنے لگی

باب المندب کے قریب حوثیوں کی پیش قدمی اور ایران کی وزارت خارجہ کا بیان: کشیدگی اور تشویش بڑھنے لگی

*اسلام آباد: *ایران کی وزارت خارجہ نے یمن میں جاری کشیدگی اور حالیہ عسکری پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے مسائل کا حل طاقت کے استعمال، فوجی کارروائی یا بیرونی دباؤ کے ذریعے نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات اور باہمی مفاہمت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں حوثی فورسز کی حالیہ پیش قدمی نے ملک کی داخلی صورتحال کے ساتھ ساتھ پورے خطے کی سلامتی کو بھی ایک مرتبہ پھر شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ خصوصاً باب المندب کے قریب حوثیوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے اس تنازع کو محض یمن کا داخلی معاملہ رہنے کے بجائے ایک اہم علاقائی اور عالمی سکیورٹی مسئلہ بنا دیا ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ یمن میں طاقت کے ذریعے کسی ایک فریق کو فیصلہ کن برتری دلانے کی کوشش مسئلے کو ختم کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کرے گی۔ تہران کے مطابق پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب یمنی فریقین اپنے اختلافات کو مذاکرات کی میز پر حل کریں اور ملک کے مستقبل کا فیصلہ سیاسی عمل کے ذریعے کیا جائے۔ باب المندب کے قریب پیش قدمی نے تشویش بڑھا دی

ایرانی بیان کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ حوثیوں کی حالیہ عسکری پیش قدمی نے باب المندب کے قریب طاقت کا توازن ایک مرتبہ پھر حساس بنا دیا ہے۔

باب المندب دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے۔ ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارتی راستوں کے لیے اس آبنائے کی غیر معمولی تزویراتی اہمیت ہے۔

اگر اس علاقے میں مستقل عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات یمن کی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی بحری تجارت، توانائی کی ترسیل، انشورنس لاگت اور خطے میں موجود بڑی عالمی طاقتوں کی عسکری موجودگی تک پھیل سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ حوثیوں کی باب المندب کے قریب پیش قدمی کو سعودی عرب، امریکہ اور دیگر علاقائی قوتیں محض یمنی داخلی سیاست کے تناظر میں نہیں دیکھ رہیں۔ ایران کے لیے بھی یہ ایک حساس مرحلہ

تہران کی جانب سے مذاکرات پر زور کو ایران کی وسیع تر علاقائی حکمت عملی کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

ایران حوثیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو یمن کے سیاسی بحران اور خطے میں مزاحمتی دھڑوں کے تناظر میں دیکھتا ہے، جبکہ سعودی عرب اور امریکہ سمیت دیگر ممالک حوثیوں کو ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کا اہم حصہ سمجھتے ہیں۔

یہی بنیادی اختلاف یمن کے بحران کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ اگر حوثی اپنی عسکری پوزیشن مضبوط کرتے ہیں تو سعودی عرب کے لیے اس کا مطلب اپنی جنوبی سرحد کے قریب ایک مضبوط مخالف قوت کا وجود ہے، جبکہ ایران کے لیے حوثی خطے میں اس کے سیاسی اور تزویراتی اثر و رسوخ کا اہم عنصر سمجھے جاتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں ایران کا مذاکرات پر زور ایک طرف سفارتی راستے کی حمایت کا اظہار ہے، لیکن دوسری طرف اس کا عملی امتحان یہ ہوگا کہ تہران اپنے اثر و رسوخ کو حوثیوں کو کسی قابلِ عمل سیاسی مذاکراتی عمل کی طرف لانے کے لیے کس حد تک استعمال کرتا ہے۔ سعودی عرب کے لیے مشکل فیصلہ

یمن کی موجودہ صورتحال سعودی عرب کے لیے بھی ایک مشکل پالیسی انتخاب پیدا کر رہی ہے۔

ریاض ایک طرف اپنی سرحدی سلامتی اور بحیرہ احمر کی سکیورٹی کو یقینی بنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری طرف یمن میں دوبارہ ایک طویل اور مہنگی جنگ میں داخل ہونے سے بھی گریز کرنا چاہتا ہے۔

ماضی کے تجربے نے یہ ثابت کیا ہے کہ یمن میں محض عسکری دباؤ کے ذریعے پائیدار سیاسی استحکام حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اسی لیے اگر موجودہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو سعودی عرب کے سامنے بنیادی سوال یہ ہوگا کہ آیا وہ عسکری دباؤ میں اضافہ کرے یا کسی نئے سیاسی اور علاقائی مذاکراتی عمل کی طرف واپس جائے۔ امریکہ کا کردار بھی فیصلہ کن

یمن کا بحران امریکہ کے لیے بھی ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ باب المندب اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی سکیورٹی براہ راست عالمی تجارت سے منسلک ہے، جبکہ حوثیوں کے خلاف کسی بڑے امریکی فوجی آپریشن سے تنازع کے مزید پھیلنے کا خطرہ موجود ہے۔

واشنگٹن کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ حوثیوں کو محدود رکھنے کے لیے عسکری طاقت کا استعمال کیا جائے تو ایران سمیت دیگر علاقائی قوتیں بھی زیادہ براہ راست اس تنازع میں شامل ہوسکتی ہیں، جبکہ فوجی کارروائی سے گریز حوثیوں کو اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔

اسی تناظر میں ایران کی جانب سے مذاکرات کو حل قرار دینا عالمی طاقتوں کے لیے بھی ایک اہم سفارتی پیغام ہے۔ کیا مذاکرات واقعی ممکن ہیں؟

اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کا راستہ کس حد تک قابلِ عمل ہے۔

یمن میں مسئلہ صرف حوثیوں اور مرکزی حکومت کے درمیان اختلاف تک محدود نہیں۔ ملک میں مختلف سیاسی، عسکری اور علاقائی دھڑے موجود ہیں، جبکہ سعودی عرب، ایران، امریکہ اور دیگر علاقائی قوتوں کے مفادات بھی اس تنازع سے جڑے ہوئے ہیں۔

چنانچہ کسی بھی جامع سیاسی حل کے لیے صرف یمنی فریقین کا مذاکرات پر آمادہ ہونا کافی نہیں ہوگا بلکہ ان علاقائی طاقتوں کے درمیان بھی کم از کم بنیادی مفاہمت ضروری ہوگی جو یمن میں براہ راست یا بالواسطہ اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔

یہاں ایران کا کردار خاص اہمیت اختیار کرتا ہے۔ اگر تہران واقعی یہ سمجھتا ہے کہ یمن کے مسائل کا حل طاقت نہیں بلکہ مذاکرات ہیں تو اس کے لیے اگلا قدم محض بیان جاری کرنے کے بجائے ایک ایسے سیاسی عمل کی حمایت کرنا ہوگا جس میں حوثی بھی قابلِ عمل سیاسی سمجھوتے کے لیے تیار ہوں۔ عسکری فتح یا سیاسی سمجھوتا؟

یمن کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عسکری برتری عارضی طور پر نقشہ تبدیل کر سکتی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس سے سیاسی مسئلہ بھی حل ہوجائے۔

حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی انہیں مذاکرات کی میز پر نسبتاً مضبوط پوزیشن دے سکتی ہے، لیکن اگر اس کے جواب میں سعودی عرب یا دیگر طاقتیں عسکری کارروائی بڑھاتی ہیں تو صورتحال دوبارہ ایک وسیع جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

دوسری طرف اگر تمام فریق مذاکرات کی طرف بڑھتے ہیں تو یمن میں جنگ بندی، سیاسی اقتدار کی تقسیم، سرحدی سلامتی اور بحیرہ احمر و باب المندب میں بحری آمدورفت کے لیے ایک نئے علاقائی انتظام کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ خطے کے لیے بڑا امتحان

ایران کا تازہ بیان دراصل ایک بڑے سوال کو سامنے لاتا ہے: *کیا مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحرانوں کا جواب مزید عسکری طاقت ہے یا علاقائی سفارت کاری؟*

یمن، باب المندب اور بحیرہ احمر کی صورتحال کو ایران، سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان وسیع تر کشیدگی سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ایک جانب عسکری طاقت کے ذریعے مخالف فریق کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش ہے، دوسری جانب ایسے مذاکرات کی ضرورت ہے جو صرف عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ تنازع کی بنیادی سیاسی وجوہات کو بھی حل کرسکیں۔

ایران کا یہ مؤقف کہ یمن کے مسائل طاقت سے نہیں مذاکرات سے حل ہوں گے، سفارتی اعتبار سے اہم ہے۔ تاہم اس مؤقف کی اصل آزمائش اب بیانات میں نہیں بلکہ *عملی اقدامات میں ہوگی*۔ اگر ایران، سعودی عرب، حوثی تحریک اور دیگر متعلقہ فریق کسی قابلِ قبول سیاسی فریم ورک پر پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یمن ایک مرتبہ پھر وسیع جنگ سے بچ سکتا ہے۔ لیکن اگر باب المندب کے قریب عسکری مقابلہ مزید شدت اختیار کرتا ہے تو یمن کا بحران ایک ایسے علاقائی تصادم میں تبدیل ہوسکتا ہے جس کے اثرات مشرق وسطیٰ سے کہیں باہر تک محسوس کیے جائیں گے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں