بانی پی ٹی آئی کو طبی سہولیات مل رہی ہیں, نجی ہسپتال کے حوالے سے نظرثانی درخواست دائر ہونی چاہئے، عطاء اللہ تارڑ

بانی پی ٹی آئی کو طبی سہولیات مل رہی ہیں, نجی ہسپتال کے حوالے سے نظرثانی درخواست دائر ہونی چاہئے، عطاء اللہ تارڑ
اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ صحت کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہئے، ہر قیدی کو آئین و قانون اور جیل مینوئل کے مطابق صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، بانی پی ٹی آئی کو بھی یہ سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی فراہم کی جاتی رہیں گی تاہم نجی ہسپتال کے حوالے سے نظرثانی کی درخواست دائر ہونی چاہئے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آیا یہ حق تمام قیدیوں کو حاصل ہے یا نہیں۔ بدھ کو یہاں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے گزشتہ روز سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا، مسلم لیگ (ن) چاہے اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں، اس کی ہمیشہ یہ پالیسی رہی ہے کہ صحت کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جب مسلم لیگ (ن) اپوزیشن میں تھی تو تحریک انصاف برسراقتدار تھی اور اس وقت بانی پی ٹی آئی وزیراعظم تھے جو سٹیج پر کھڑے ہو کر اپوزیشن کو طعنے دیتے تھے کہ یہ جب جیل جاتے ہیں تو بیمار ہو جاتے ہیں، یہ جیل کے اندر گھر کے کھانے مانگتے ہیں، ایک طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا اور اپنی جماعت کے لوگوں سے کہا گیا کہ بیماری کے اوپر بھرپور سیاست کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے بانی پی ٹی آئی کے علاج معالجے اور صحت کے حوالے سے کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے یہ تاثر ملے کہ حکومت صحت کے معاملے پر سیاست کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہر قیدی کو آئین و قانون اور جیل مینوئل کے مطابق صحت کی سہولیات کی فراہمی کا حق حاصل ہے، بانی پی ٹی آئی کو بھی یہ سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی فراہم کی جاتی رہیں گی، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ جیل میں قیدیوں کو جیل مینوئل کے مطابق طبی سہولیات فراہم کرے، یہ ایک حق ہے جو ہر قیدی کو ملتا ہے مگر کیا کسی مخصوص نجی ہسپتال میں علاج کی سہولت بھی ہر قیدی کو حاصل ہو سکتی ہے؟ وزیر قانون نے اس حوالے سے واضح کیا ہے کہ اس معاملے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی جائے گی تاکہ اس کی وضاحت ہو سکے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ہماری قیادت یا ہم نے کبھی بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے صحت کے معاملے پر سیاست کا تاثر ملے، صحت کا معاملہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے تاہم اللہ بڑے بول سے بچائے، مجھے وہ وقت یاد آتا ہے جب بانی پی ٹی آئی نے واشنگٹن میں کھڑے ہو کر منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا کہ میں جا کر ان کا گھر کا کھانا اور دوائیاں بند کردوں گا۔ مختلف جلسوں میں بھی انہوں نے یہ کہا کہ جب یہ جیل جاتے ہیں تو بیمار ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے اور بڑے بول سے بچنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نجی ہسپتال کے حوالے سے نظرثانی کی درخواست دائر ہونی چاہئے تاہم علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں ہے۔ حکومت کا ایگزیکٹو فنکشن ہے کہ قیدی کو جیل مینوئل کے مطابق صحت کی سہولیات فراہم کرنی ہیں، یہ سہولیات فراہم ہوتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ہوتی رہیں گی، اس میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ہے، ہم یہ ذمہ داری پہلے بھی نبھاتے آئے ہیں اور آئندہ بھی نبھاتے رہیں گے۔ عظمیٰ خان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت مسلسل یہ کہتی رہی ہے کہ اس معاملے پر سیاست اور سیاسی بیان بازی سے گریز کیا جائے، عدالت نے بھی قدغن لگائی کہ سیاست نہ کریں، صحت کا معاملہ سیاست سے الگ رہنا چاہئے اور حکومت اپنی ذمہ داری نبھاتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون نے کل بھی نجی ہسپتال کے حوالے سے بات کی ہے، حکومت سمجھتی ہے کہ نظرثانی کی درخواست دائر ہونی چاہئے، اگر اس طرح کی کوئی نظیر قائم ہوتی ہے تو اس حوالے سے واضح ہونا چاہئے کہ یہ حق تمام قیدیوں کو حاصل ہوگا یا نہیں۔