مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

بیلسٹک میزائل حملے کے بعد یو اے ای کا ایران کے ساتھ تجارت معطل کرنے کا اعلان

بیلسٹک میزائل حملے کے بعد یو اے ای کا ایران کے ساتھ تجارت معطل کرنے کا اعلان

بیلسٹک میزائل حملے کے بعد یو اے ای کا ایران کے ساتھ تجارت معطل کرنے کا اعلان

دبئی: متحدہ عرب امارات نے ایران کی جانب سے دو بیلسٹک میزائل داغے جانے کے دعوے کے بعد ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں، تجارتی تبادلے اور مالی لین دین مزید اطلاع تک معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اماراتی حکام کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

اماراتی وزارت دفاع کے مطابق منگل کی شب ایران سے دو بیلسٹک میزائل داغے گئے، جن کے بارے میں اندازہ ہے کہ ان کا ہدف بحری آمدورفت تھا۔ وزارت کے مطابق ایک میزائل اماراتی علاقائی پانیوں سے باہر سمندر میں گرا جبکہ دوسرا علاقائی پانیوں کے اندر جا گرا۔ میزائلوں کے خطرے کے باعث ملک بھر میں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔

اماراتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ خطے میں ایسی کشیدگی جاری ہے جو علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو نقصان پہنچا رہی ہے، اس لیے ایران کے ساتھ تمام تجارتی، کاروباری اور مالی معاملات معطل کیے گئے ہیں۔ فیصلے کی کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی اور اسے مزید اطلاع تک برقرار رکھا جائے گا۔

ایران نے متحدہ عرب امارات کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے میزائل داغنے سے انکار کیا ہے۔ تہران نے اماراتی مؤقف کو بے بنیاد قرار دیا ہے، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہوگیا ہے۔

متحدہ عرب امارات ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شمار ہوتا ہے اور دبئی طویل عرصے سے ایران کے لیے علاقائی تجارت اور دوبارہ برآمدات کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ تجارتی اور مالی روابط کی معطلی سے ایران کو پہلے ہی عائد امریکی پابندیوں اور معاشی دباؤ کے علاوہ ایک اہم تجارتی راستے سے بھی محرومی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امارات کا یہ فیصلہ ایران کے لیے معاشی طور پر اہم ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات کے ذریعے ایران کو بین الاقوامی تجارت، مالی خدمات اور مختلف اشیا تک رسائی حاصل رہی ہے۔ دوسری جانب یہ اقدام خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ کرسکتا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں