حوثیوں کا سعودی عرب پر بڑا میزائل و ڈرون حملہ، 73 افراد زخمی، توانائی تنصیبات متاثر

حوثیوں کا سعودی عرب پر بڑا میزائل و ڈرون حملہ، 73 افراد زخمی، توانائی تنصیبات متاثر
ریاض: یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوگئے۔ سعودی حکام کے مطابق زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران سمیت مختلف علاقوں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ حملوں کے بعد متعدد مقامات پر آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
سعودی وزارت توانائی کے مطابق حملوں سے بعض توانائی تنصیبات متاثر ہوئیں، جہاں آگ پر قابو پانے کے لیے ہنگامی ٹیموں نے کارروائی کی۔ جازان میں سعودی آرامکو کی تنصیبات بھی حملوں سے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب میں متعدد فوجی اور اقتصادی اہداف کو درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق اہداف میں سعودی آرامکو کی تنصیبات اور خمیس مشیط ایئر بیس بھی شامل تھے۔
حوثی ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور حملوں کو یمن میں سعودی کارروائیوں کے جواب کے طور پر پیش کیا۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے بتائے گئے بعض اہداف اور حملوں کے مکمل اثرات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
سعودی حکام نے حملوں کو ملکی سلامتی اور خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے دفاع کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ خلیج تعاون کونسل نے بھی سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے۔
حالیہ حملوں کو سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً اس لیے کہ جنوبی سعودی عرب کے بعض متاثرہ علاقوں میں اہم توانائی اور فوجی تنصیبات موجود ہیں۔