خیبر پختونخوا اسمبلی نے ارکان کے متنازع مراعاتی قانون میں ترامیم منظور کر لیں

خیبر پختونخوا اسمبلی نے ارکان کے متنازع مراعاتی قانون میں ترامیم منظور کر لیں
پشاور، 8 اگست: خیبر پختونخوا اسمبلی نے ارکان اسمبلی کے لیے تاحیات سرکاری پاسپورٹ سمیت دیگر متنازع مراعات سے متعلق قانون میں ترمیم کرتے ہوئے کئی شقیں واپس لے لی ہیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے جمعہ کو اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا اسمبلی (اختیارات، استثنیٰ اور مراعات) ترمیمی ایکٹ 2026 منظور کیا۔ ترمیم کے تحت ارکان اسمبلی اور ان کے شریک حیات کو تاحیات سرکاری پاسپورٹ جاری کرنے کی شق ختم کر دی گئی ہے۔
ترمیم کے بعد ارکان اسمبلی کے سرکاری پاسپورٹ وفاقی قانون کے تحت ان کی پارلیمانی مدت تک قابل استعمال ہوں گے۔ اسی طرح ارکان صوبائی اسمبلی کو جاری کیے جانے والے نان پروہیبٹڈ بور اسلحہ لائسنسوں کی تاحیات تعداد بھی 8 سے کم کر کے 4 کر دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے رواں سال اپریل میں ایک قانون منظور کیا تھا جس میں ارکان اسمبلی اور ان کے شریک حیات کے لیے تاحیات بلیو پاسپورٹ، اسلحہ لائسنس، حراست سے وسیع استثنیٰ اور فوجداری مقدمات میں ارکان کی گرفتاری سے قبل اسپیکر کی اجازت سمیت متعدد مراعات شامل تھیں۔ قانون کی منظوری کے بعد اسے عوام اور میڈیا کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
شدید ردعمل کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے قانون پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جبکہ صوبائی وزیر اطلاعات شفی جان نے متنازع شقیں واپس لینے اور قانون کو 1988 کے قانون کے مطابق کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ترمیمی بل حکومتی رکن غازی اکرام نے پیش کیا، جسے اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت اجلاس میں منظور کر لیا گیا۔ صحافتی برادری کی جانب سے جرمانوں اور سزاؤں میں اضافے پر اٹھائے گئے اعتراضات کو بھی ترمیم کے ذریعے دور کیا گیا، جبکہ جرمانوں اور سزاؤں میں کمی کر دی گئی۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا اسمبلی نے صوبے کے بعض علاقوں کو وفاقی دارالحکومت میں شامل کیے جانے کی کسی بھی ممکنہ تجویز کے خلاف متفقہ قرارداد بھی منظور کر لی۔
حکومتی رکن اکبر ایوب کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ ہری پور، ایبٹ آباد اور خیبر پختونخوا کے دیگر تمام اضلاع صوبے کا لازمی حصہ ہیں اور انہیں ملک کے کسی دوسرے حصے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ صوبے کی جغرافیائی حدود، انتظامی حیثیت، سیاسی و مالی اختیارات اور قدرتی وسائل سے متعلق کسی بھی تبدیلی کو قانون کے منافی تصور کیا جائے گا۔ اسمبلی نے صوبے کے معدنیات، جنگلات، پن بجلی منصوبوں اور دیگر قدرتی وسائل پر عوام کے آئینی حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیا۔
قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کی جغرافیائی، آئینی اور انتظامی حیثیت کا احترام کیا جائے اور ایسی کسی بھی تجویز کو مسترد کیا جائے جس سے صوبے کی حدود یا خودمختاری متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔ اسمبلی نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی کوئی بھی تبدیلی بین الصوبائی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال، ڈاکٹروں کی جانب سے ادویات کے جنیرک نام سے نسخے تجویز کرنے اور مردان میڈیکل کمپلیکس میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشینوں کی خرابی سمیت دیگر امور بھی زیر بحث آئے۔
بعد ازاں خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس پیر کو دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔