مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

سرکاری اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کا عمل محدود کیا جائے، آئی ایم ایف کا حکومت سے مطالبہ

سرکاری اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کا عمل محدود کیا جائے، آئی ایم ایف کا حکومت سے مطالبہ

سرکاری اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کا عمل محدود کیا جائے، آئی ایم ایف کا حکومت سے مطالبہ

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ سرکاری اداروں کی جانب سے ریاستی ملکیتی کمپنیوں کو براہ راست ٹھیکے دینے کے طریقہ کار کو محدود کیا جائے اور ایسے معاہدوں کی اجازت صرف غیر معمولی اور قابلِ جواز حالات میں دی جائے۔

پرو پاکستانی کی رپورٹ کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان براہ راست معاہدوں سے متعلق بعض شقوں پر اختلاف کے باعث نئے سرکاری خریداری قوانین کی منظوری میں تاخیر ہوئی ہے۔ ان قوانین کا مقصد 2004 کے پبلک پروکیورمنٹ رولز کی جگہ نیا قانونی و انتظامی فریم ورک متعارف کرانا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کے گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ ایکشن پلان کے تحت پاکستان کو جون 2026 تک پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) رولز 2026 کی منظوری اور نوٹیفکیشن جاری کرنا تھا، تاہم ریاستی ملکیتی اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کے معاملے پر اختلاف کے باعث یہ ہدف مقررہ مدت میں حاصل نہیں ہوسکا۔

ذرائع کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بنیادی اختلاف مجوزہ رول 32-F سے متعلق ہے، جس میں سرکاری اداروں اور ریاستی ملکیتی کمپنیوں کے درمیان براہ راست معاہدوں کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ سرکاری خریداری کرنے والے اداروں کو عام حالات میں اشیا، تعمیراتی کام، خدمات اور مشاورتی امور کے لیے ریاستی ملکیتی پیشہ ورانہ، خودمختار یا نیم خودمختار اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے سے گریز کرنا چاہیے۔

عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق براہ راست معاہدوں کی اجازت صرف غیر معمولی حالات میں ہونی چاہیے، جن میں ہنگامی نوعیت کے منصوبے، جغرافیائی طور پر دور دراز یا بکھرے ہوئے علاقوں میں کام اور ایسی خدمات شامل ہیں جہاں براہ راست معاہدہ کرنا عوامی مفاد میں ناگزیر ہو۔

آئی ایم ایف نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ اگر کسی منصوبے کے مخصوص یا خصوصی حصے کے لیے کسی بیرونی ادارے کی مدد لینا ضروری ہو تو ریاستی ملکیتی ادارے کی جانب سے دیا جانے والا ذیلی ٹھیکہ مجموعی منصوبے کی مالیت کے 40 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔

پاکستان نے ذیلی ٹھیکے کی 40 فیصد حد سے اصولی طور پر اتفاق کیا ہے، تاہم حکومت نے تجویز دی ہے کہ متعلقہ اتھارٹی کو حالات کے مطابق اس مالی حد میں وقتاً فوقتاً تبدیلی کا اختیار دیا جائے۔

مجوزہ قواعد کے تحت مقررہ حد سے زیادہ ذیلی ٹھیکہ دینا سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ ایسے معاملات میں ملی بھگت، غیر ضروری دباؤ، بدعنوانی، فراڈ یا سرکاری عمل میں رکاوٹ ڈالنے سے متعلق دفعات کے تحت کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔

آئی ایم ایف نے براہ راست معاہدوں کے حوالے سے شفافیت بڑھانے کے لیے مزید معلومات عوام کے سامنے رکھنے پر بھی زور دیا ہے، تاکہ ایسے معاہدوں کی مؤثر نگرانی، جانچ پڑتال اور احتساب ممکن بنایا جاسکے۔

مجوزہ پی پی آر اے رولز میں سرکاری خریداری کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے ایسے ٹھیکیداروں، حقیقی مالکان، مالکان اور ڈائریکٹرز کو بھی نااہل قرار دینے کی گنجائش رکھی گئی ہے جنہیں بعض ایسے مقدمات کا سامنا ہو جو دیوالیہ پن کا باعث بن سکتے ہوں یا جنہیں ماضی میں مخصوص جرائم میں سزا ہوچکی ہو۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں