مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ: عالمی ردعمل اور خطے کا بدلتا سکیورٹی منظرنامہ

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ: عالمی ردعمل اور خطے کا بدلتا سکیورٹی منظرنامہ

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ: عالمی ردعمل اور خطے کا بدلتا سکیورٹی منظرنامہ

حنیف صابر

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے سکیورٹی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے تحت تینوں ممالک نے اس اصول پر اتفاق کیا ہے کہ کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اگرچہ معاہدے کی تمام عملی اور فوجی تفصیلات ابھی منظر عام پر نہیں آئی ہیں، لیکن اس ایک شق نے ہی عالمی اور علاقائی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی ہے۔

یہ معاہدہ محض ایک اور دفاعی تعاون کی دستاویز نہیں لگتا۔ ایک طرف سعودی عرب کی معاشی اور تزویراتی اہمیت ہے، دوسری جانب پاکستان کا طویل فوجی تجربہ اور ترکیہ کی تیزی سے ترقی کرتی دفاعی صنعت اس شراکت داری کو ایک خاص وزن دیتے ہیں۔

تاہم اس مرحلے پر اسے ’’نیا نیٹو‘‘ یا مکمل طور پر نیٹو طرز کا فوجی اتحاد قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ اجتماعی دفاع کی یہ یقین دہانی عملی طور پر کس شکل میں سامنے آتی ہے۔

سعودی عرب کے لیے یہ معاہدہ کیوں اہم ہے؟

ریاض کے لیے اس معاہدے کا وقت خاص اہمیت رکھتا ہے۔

سعودی عرب وژن 2030 کے تحت اپنی معیشت کو تیزی سے تبدیل کر رہا ہے۔ بڑے صنعتی، سیاحتی اور انفراسٹرکچر منصوبوں کے ساتھ ساتھ توانائی کے مراکز اور تجارتی راستوں کا تحفظ بھی سعودی قومی سلامتی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔

دوسری طرف مشرق وسطیٰ گزشتہ کئی برسوں سے میزائل حملوں، ڈرونز، مسلح تنازعات اور علاقائی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں سعودی عرب کے لیے دفاعی شراکت داری کو وسیع کرنا ایک فطری تزویراتی ضرورت بنتی جا رہی ہے۔

ریاض کے امریکا کے ساتھ دیرینہ سکیورٹی تعلقات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن سعودی پالیسی میں علاقائی اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کا رجحان بھی واضح ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ نیا معاہدہ اسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے نئی تزویراتی جہت

پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ پاکستانی فوجی اہلکار سعودی سکیورٹی اداروں کی تربیت اور دیگر شعبوں میں تعاون کرتے رہے ہیں۔

نئے معاہدے میں ترکیہ کی شمولیت اس پرانے تعلق کو ایک نئی جہت دیتی ہے۔

پاکستان اور ترکیہ پہلے ہی دفاعی شعبے میں قریبی تعاون کر رہے ہیں۔ بحری نظام، دفاعی ٹیکنالوجی، تربیت اور دفاعی پیداوار کے مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون موجود ہے۔ سعودی عرب کی شمولیت سے یہ تعاون ایک وسیع تر سہ فریقی فریم ورک اختیار کر سکتا ہے۔

مستقبل میں مشترکہ فوجی مشقیں، دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کا تبادلہ، انٹیلی جنس تعاون اور تربیتی پروگرام اس شراکت داری کا حصہ بن سکتے ہیں۔

تاہم پاکستان کے لیے ایک سفارتی چیلنج بھی موجود ہے۔

اسلام آباد نے ہمیشہ سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے اور دونوں کے درمیان علاقائی کشیدگی میں براہ راست فریق بننے سے گریز کیا ہے۔ اگر مستقبل میں ریاض اور تہران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو پاکستان کے لیے اپنے اس متوازن سفارتی مؤقف کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا۔

ترکیہ کی شمولیت کیوں اہم ہے؟

ترکیہ کی موجودگی اس معاہدے کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔

ترکیہ نے گزشتہ برسوں میں اپنی دفاعی صنعت کو نمایاں طور پر ترقی دی ہے، خاص طور پر ڈرونز، بحری نظام اور دیگر جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں۔ اس کی مسلح افواج نیٹو کی بڑی افواج میں شمار ہوتی ہیں۔

سعودی عرب بھی ترک دفاعی ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعتی تعاون میں بڑھتی ہوئی دلچسپی رکھتا ہے۔ اس لیے امکان ہے کہ نیا معاہدہ صرف فوجی تعاون تک محدود نہ رہے بلکہ مشترکہ دفاعی منصوبوں، ٹیکنالوجی اور پیداوار تک بھی پھیل جائے۔

دوسرے لفظوں میں، معاملہ صرف ہتھیار خریدنے تک محدود نہیں رہ سکتا بلکہ مستقبل میں مشترکہ طور پر دفاعی صلاحیتیں تیار کرنے کی طرف بھی جا سکتا ہے۔

بھارت کی محتاط نظر

معاہدے پر بھارت کا ابتدائی سرکاری ردعمل محتاط رہا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ نئی دہلی اس پیش رفت کو ’’قریب سے دیکھ رہا ہے‘‘۔

یہ الفاظ اہم ہیں۔ بھارت نے فوری طور پر کسی جوابی فوجی اتحاد یا بڑے سفارتی اقدام کا اعلان نہیں کیا۔ تاہم پاکستان کی موجودگی اور معاہدے میں اجتماعی دفاع کی شق کے باعث اس پیش رفت کو بھارتی سکیورٹی پالیسی کے لیے نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں۔

نئی دہلی نے ساتھ ہی سعودی عرب کے ساتھ اپنے وسیع البنیاد تزویراتی تعلقات پر زور دیا ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ بھارت اس نئے دفاعی انتظام کے باوجود ریاض کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنے اور آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

بھارتی میڈیا میں کیا بحث ہو رہی ہے؟

بھارتی میڈیا نے معاہدے کو خاصی توجہ دی ہے، بالخصوص اس لیے کہ اس میں پاکستان شامل ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ میں ’’ایک پر حملہ، سب پر حملہ‘‘ کے اصول کو نمایاں کیا گیا اور اس کے ممکنہ علاقائی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

سوشل میڈیا پر اس دوران بعض ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ بھارت ممکنہ طور پر اسرائیل کے ساتھ کسی جوابی دفاعی انتظام پر غور کر رہا ہے۔ تاہم ایسی قیاس آرائیوں کو سرکاری تصدیق کے بغیر خبر کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

ایران کے معاملے میں احتیاط کیوں ضروری ہے؟

اس معاہدے کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے ایران کا معاملہ سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔

اس کی ایک واضح وجہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان ماضی کی علاقائی رقابت ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات میں حالیہ برسوں میں سفارتی بہتری بھی آئی ہے، لیکن مشرق وسطیٰ میں ان کے مفادات کئی معاملات میں اب بھی ایک دوسرے سے متصادم رہے ہیں۔

ایسے میں پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ سعودی عرب کا اجتماعی دفاعی انتظام تہران میں یقیناً تزویراتی توجہ کا موضوع بن سکتا ہے۔

لیکن یہاں صحافتی احتیاط ضروری ہے۔

معاہدے کے اعلان کے وقت ایران کی جانب سے ایسا کوئی واضح اور مستند سرکاری بیان دستیاب نہیں تھا جس میں معاہدے کو مسترد کرنے، دھمکی دینے یا اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف قرار دینے کی بات کی گئی ہو۔

اس لیے سوشل میڈیا یا غیرمصدقہ ذرائع سے سامنے آنے والے کسی بھی سخت ایرانی ردعمل کو تہران کا باضابطہ مؤقف قرار دینا درست نہیں ہوگا، جب تک ایرانی حکومت یا کسی مستند سرکاری ذریعے سے اس کی تصدیق نہ ہو۔

عالمی میڈیا کی نظر میں معاہدہ

عالمی میڈیا کی کوریج میں مجموعی طور پر تین پہلو نمایاں رہے ہیں۔

پہلا، سعودی عرب کی جانب سے علاقائی سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کی کوشش۔

دوسرا، پاکستان اور ترکیہ کا خلیجی اور مشرق وسطیٰ کے سکیورٹی معاملات میں بڑھتا ہوا کردار۔

تیسرا، ایران اور دیگر علاقائی طاقتوں کے لیے اس نئے انتظام کے ممکنہ تزویراتی اثرات۔

کچھ بین الاقوامی تجزیوں میں اس معاہدے کو نیٹو کے اجتماعی دفاعی اصول سے بھی جوڑا گیا ہے، لیکن یہاں احتیاط ضروری ہے۔ نیٹو کے آرٹیکل 5 اور مکہ معاہدے کے درمیان براہ راست مماثلت قائم کرنے سے پہلے معاہدے کی مکمل عملی اور فوجی شقوں کا سامنے آنا ضروری ہے۔

کیا یہ ’’اسلامی نیٹو‘‘ کی ابتدا ہے؟

معاہدے کے فوراً بعد سوشل میڈیا اور بعض میڈیا رپورٹس میں اسے ’’اسلامی نیٹو‘‘ کا نام دیا جانے لگا ہے۔

یہ ایک پرکشش سیاسی اصطلاح ضرور ہے، لیکن فی الحال اس کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں۔

سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ معاہدہ کسی فوجی محور یا فرقہ وارانہ بلاک کے قیام کے لیے نہیں ہے۔ اس لیے فی الحال اسے ’’اسلامی نیٹو‘‘ کہنا ایک تجزیاتی تعبیر تو ہو سکتی ہے، لیکن معاہدے کی سرکاری تعریف نہیں۔

اصل امتحان اب شروع ہوگا

معاہدے پر دستخط اپنی جگہ ایک اہم پیش رفت ہیں، لیکن اصل کہانی اب شروع ہوگی۔

آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ تینوں ممالک اس معاہدے کو کس حد تک عملی شکل دیتے ہیں۔

کیا مشترکہ فوجی مشقیں باقاعدگی سے ہوں گی؟ کیا انٹیلی جنس شیئرنگ کا مستقل نظام قائم ہوگا؟ کیا تینوں ممالک دفاعی پیداوار میں مل کر کام کریں گے؟ کیا ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ منصوبے شروع ہوں گے؟

اور سب سے اہم سوال: اگر تینوں میں سے کسی ایک ملک کو حقیقی فوجی حملے کا سامنا ہوتا ہے تو باقی دو ممالک کس نوعیت اور کس سطح کی مدد فراہم کریں گے؟

ان سوالات کے جوابات ہی طے کریں گے کہ مکہ معاہدہ محض ایک سیاسی عزم رہتا ہے یا ایک باقاعدہ علاقائی سکیورٹی میکانزم میں تبدیل ہوتا ہے۔

جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان نیا سکیورٹی رابطہ

شاید اس معاہدے کا سب سے دلچسپ پہلو اس کا جغرافیائی دائرہ ہے۔

پاکستان کی سکیورٹی ترجیحات بنیادی طور پر جنوبی ایشیا اور بالخصوص بھارت کے ساتھ تعلقات سے جڑی ہیں۔ سعودی عرب کی بنیادی سکیورٹی تشویش خلیج اور مشرق وسطیٰ سے متعلق ہے، جبکہ ترکیہ کے مفادات مشرق وسطیٰ، بحیرہ روم اور نیٹو کے وسیع تر سکیورٹی نظام تک پھیلے ہوئے ہیں۔

ان تینوں ممالک کا ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک میں آنا دراصل دو مختلف خطوں کے سکیورٹی معاملات کو ایک دوسرے کے قریب لا رہا ہے۔

یہ ایک بڑے رجحان کی بھی نشاندہی کرتا ہے: خطے کی بڑی طاقتیں اب اپنی سکیورٹی ضروریات کے لیے صرف عالمی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے باہمی اور علاقائی شراکت داری کے نئے راستے تلاش کر رہی ہیں۔

نتیجہ

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ راتوں رات مشرق وسطیٰ یا جنوبی ایشیا کے سکیورٹی نقشے کو تبدیل نہیں کرے گا۔ تاہم یہ ایک اہم سیاسی اور تزویراتی اشارہ ضرور ہے۔

سعودی عرب کے لیے یہ علاقائی سکیورٹی تعاون کی ایک نئی پرت ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ریاض کے ساتھ پہلے سے موجود دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے ساتھ ترکیہ کے ساتھ اپنی قریبی شراکت داری کو بھی ایک بڑے فریم ورک میں لانے کا موقع ہے۔ ترکیہ کے لیے یہ خلیجی سکیورٹی میں اپنے کردار کو بڑھانے اور دفاعی صنعت کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کا راستہ بن سکتا ہے۔

بھارت اس پیش رفت کو محتاط نظر سے دیکھ رہا ہے، جبکہ ایران کے معاملے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے تہران کے مستند سرکاری ردعمل کا انتظار ضروری ہے۔

فی الحال سب سے متوازن نتیجہ یہی ہے کہ مکہ میں ایک نیا دفاعی فریم ورک قائم کیا گیا ہے، لیکن اس کی اصل اہمیت دستخطوں سے نہیں بلکہ آنے والے دنوں میں تینوں ممالک کے عملی اقدامات سے طے ہوگی۔

اگر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی، انٹیلی جنس تعاون، فوجی مشقوں، ٹیکنالوجی اور دفاعی پیداوار میں اس معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو مکہ معاہدہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک نئے اور مؤثر سکیورٹی پل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں