سعودی عرب کے وسطی علاقے نجد میں 103 نئے آثار قدیمہ کے مقامات دریافت

سعودی عرب کے وسطی علاقے نجد میں 103 نئے آثار قدیمہ کے مقامات دریافت
ریاض: سعودی عرب کے وسطی علاقے ہائی نجد میں آثار قدیمہ کے ایک جامع سروے کے دوران 103 نئے تاریخی مقامات دریافت ہوئے ہیں۔ یہ دریافتیں چٹانی نقوش، قدیم تحریروں اور مختلف آثار پر مشتمل ہیں، جو خطے کی قدیم انسانی سرگرمیوں اور تہذیبی ارتقا کے حوالے سے اہم شواہد فراہم کرتی ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی ہیریٹیج کمیشن کی جانب سے چٹانی نقوش اور قدیم فن پاروں کی تلاش، تحقیق اور دستاویز بندی کے منصوبے کے پہلے مرحلے کے دوران ماہرین نے ہائی نجد کے مختلف علاقوں میں تقریباً 30 روز تک فیلڈ سروے کیا۔
رپورٹ کے مطابق ہائی نجد وسطی سعودی عرب کا ایک وسیع جغرافیائی خطہ ہے، جس میں ریاض کے وسطی اور مغربی علاقے، قصیم اور حائل کے مختلف حصے، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مشرقی علاقے جبکہ عسیر ریجن کا شمال مشرقی حصہ شامل ہے۔
سروے کے دوران سامنے آنے والے 103 آثار قدیمہ کے مقامات پر پتھروں سے بنی مختلف ساختیں، قدیم کتبے اور چٹانوں پر کندہ تصاویر اور نقوش دریافت ہوئے۔ ان میں انسانی اور حیوانی اشکال کے علاوہ مختلف علامتی نقوش بھی شامل ہیں، جو مختلف تاریخی ادوار میں اس خطے میں ہونے والی انسانی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ہیریٹیج کمیشن کے مطابق نئی دریافتیں ہائی نجد کے تاریخی، ثقافتی اور ماحولیاتی ورثے کی وسعت اور تنوع کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان آثار سے خطے میں مختلف ادوار کے دوران انسانی آبادی، نقل و حرکت اور تہذیبی سرگرمیوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
کمیشن نے بتایا کہ منصوبے کے آئندہ مراحل میں باقی علاقوں کا سروے مکمل کرنے کے ساتھ دریافت ہونے والے مقامات پر مزید تفصیلی اور خصوصی مطالعات کیے جائیں گے۔ نئے دریافت شدہ آثار کو سعودی عرب کے قومی آثار قدیمہ کے رجسٹر میں بھی شامل کیا جائے گا۔
حکام نے کہا کہ آثار قدیمہ کے مقامات کے تحفظ اور ان کی اہمیت کے حوالے سے عوامی آگاہی بڑھانا بھی منصوبے کا اہم حصہ ہے، تاکہ سعودی عرب کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے آنے والی نسلوں تک منتقل کیا جا سکے۔