سمندری ماحولیات بہتر بنانے کا امریکی منصوبہ جو ماحولیاتی تباہی کی داستان بن گیا

سمندری ماحولیات بہتر بنانے کا امریکی منصوبہ جو ماحولیاتی تباہی کی داستان بن گیا
واشنگٹن: امریکا میں سمندری ماحول کو بہتر بنانے اور سمندری حیات کے لیے مصنوعی مسکن تیار کرنے کی غرض سے 1970 میں شروع کیا گیا ایک منصوبہ کئی دہائیوں بعد ماحولیاتی تباہی میں تبدیل ہو گیا، جس کے اثرات ختم کرنے کے لیے آج بھی صفائی کا کام جاری ہے۔
فلوریڈا کے فورٹ لاڈرڈیل کے ساحل کے قریب تقریباً 20 لاکھ ناکارہ ٹائر سمندر میں ڈال کر مصنوعی چٹان بنانے کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد ایک جانب پرانے ٹائروں کو ٹھکانے لگانا اور دوسری جانب سمندری حیات کے لیے ایک نیا مسکن فراہم کرنا تھا۔ منصوبے کو اس وقت حکام کی منظوری حاصل تھی اور 100 سے زائد نجی کشتیوں نے ٹائر سمندر تک پہنچانے میں حصہ لیا۔
اوسبرن ریف کے نام سے قائم کیے گئے اس مصنوعی ریف کو سمندر کی تہہ میں تقریباً 36 ایکڑ رقبے پر پھیلایا گیا۔ ٹائروں کو اسٹیل کلپس اور نائیلون پٹیوں کے ذریعے بنڈلز کی شکل میں باندھا گیا تاکہ وہ سمندر کی تہہ میں ایک مضبوط مصنوعی چٹان کی صورت اختیار کر سکیں۔
تاہم منصوبہ توقعات کے مطابق کامیاب نہ ہو سکا۔ ٹائروں پر سمندری حیات کی افزائش محدود رہی، جبکہ سمندری پانی نے وقت کے ساتھ دھاتی کلپس کو زنگ آلود اور نائیلون پٹیوں کو کمزور کر دیا۔ نتیجتاً ٹائروں کے بنڈلز ٹوٹنے لگے اور بڑی تعداد میں ٹائر سمندری لہروں اور پانی کے بہاؤ کے ساتھ اپنے اصل مقام سے دور منتقل ہو گئے۔
بہتے ہوئے ٹائر قدرتی مرجانی چٹانوں تک پہنچ گئے جہاں ان کی رگڑ سے چٹانوں اور سمندری حیات کو نقصان پہنچنے لگا۔ یوں سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے شروع کیا گیا منصوبہ خود ماحول کے لیے ایک نیا خطرہ بن گیا۔
1970 کی دہائی میں ناکارہ ٹائروں کو مصنوعی چٹانوں کے طور پر استعمال کرنے کا تصور امریکا تک محدود نہیں تھا بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے 200 سے زائد منصوبے شروع کیے گئے۔ تاہم اوسبرن ریف کا تجربہ اس تصور کے طویل مدتی ماحولیاتی خطرات کی نمایاں مثال بن گیا۔
اوسبرن ریف سے ٹائر نکالنے کا باقاعدہ آپریشن 2006 میں شروع ہوا، لیکن صفائی کا عمل انتہائی سست رفتاری سے جاری ہے۔ تقریباً دو دہائیوں میں اب تک ایک چوتھائی سے کچھ زیادہ ٹائر ہی سمندر سے نکالے جا سکے ہیں۔ حکام کے اندازوں کے مطابق منصوبے میں موجود کم از کم نصف ٹائروں کو نکالنے کا ہدف تقریباً 2033 تک حاصل ہو سکے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی اہم مثال ہے کہ کسی ماحولیاتی مسئلے کا بظاہر آسان حل اگر مکمل سائنسی اور ماحولیاتی جائزے کے بغیر اختیار کیا جائے تو طویل مدت میں خود ایک بڑے ماحولیاتی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔
مصنوعی چٹانیں آج بھی سمندری حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور سمندری حیات کے لیے مسکن کی فراہمی میں استعمال ہوتی ہیں، تاہم اوسبرن ریف کا تجربہ واضح کرتا ہے کہ ایسے منصوبوں میں استعمال ہونے والے مواد، سمندری ماحول پر ممکنہ اثرات اور طویل مدتی پائیداری کا جامع جائزہ انتہائی ضروری ہے۔