مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

سپین اور اٹلی کا تنازع سنگین، اسپین نے اٹلی سے آنے والے تمام مسافروں پر سرحدی چیکنگ نافذ کر دی

سپین اور اٹلی کا تنازع سنگین، اسپین نے اٹلی سے آنے والے تمام مسافروں پر سرحدی چیکنگ نافذ کر دی

سپین اور اٹلی کا تنازع سنگین، اسپین نے اٹلی سے آنے والے تمام مسافروں پر سرحدی چیکنگ نافذ کر دی

میڈرڈ: اسپین اور اٹلی کے درمیان غیر قانونی ہجرت کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے اور اسپین نے اٹلی سے ہوائی اور بحری راستے سے آنے والے مسافروں کے لیے سرحدی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔

اسپین کی حکومت کے مطابق یہ اقدامات جمعہ کی نصف شب سے نافذ ہوئے اور ابتدائی طور پر 7 ستمبر تک جاری رہیں گے۔ اٹلی سے آنے والے مسافروں کے پاسپورٹ، قومیت اور ویزا کی جانچ کی جائے گی۔ میڈرڈ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ملک کو درپیش مسلسل غیر قانونی ہجرت کے دباؤ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

یہ اقدام اٹلی کی جانب سے اسپین سے آنے والے غیر یورپی شہریوں پر اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کیے جانے کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔ اٹلی نے یہ فیصلہ مراکش سے اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوتا میں تقریباً 78 ہزار تارکین وطن کی آمد کے بعد کیا تھا۔

روم کا مؤقف ہے کہ سیوتا میں داخل ہونے والے تارکین وطن اسپین کے راستے اٹلی سمیت دیگر یورپی ممالک کا رخ کر سکتے ہیں، اسی خدشے کے پیش نظر شینگن معاہدے کے تحت آزادانہ نقل و حرکت پر عارضی پابندیاں عائد کی گئیں۔ اٹلی نے کہا ہے کہ یہ اقدامات کم از کم 15 اگست تک برقرار رہیں گے۔

تاہم اسپین نے اٹلی کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا اور جمعہ کو روم سے مطالبہ کیا کہ وہ اتوار تک اپنی سرحدی چیکنگ ختم کرے۔ اطالوی حکومت نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کسی دباؤ یا “الٹی میٹم” کو قبول نہیں کرے گی۔

دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز اور اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی کے درمیان سیاسی اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ میلونی طویل عرصے سے یورپی یونین میں غیر قانونی ہجرت کے خلاف سخت اقدامات کی حمایت کرتی رہی ہیں۔

دوسری جانب اسپین میں گزشتہ ہفتے سیوتا میں داخل ہونے والے بیشتر تارکین وطن کو چند روز کے اندر مراکش واپس بھیج دیا گیا، تاہم تقریباً 1,400 نابالغ اب بھی سیوتا میں موجود ہیں۔

اسپین نے مراکش سے تارکین وطن کی ایک نئی بڑی لہر کی باضابطہ پیش گوئی نہیں کی، تاہم سوشل میڈیا پر ایک اور کوشش کی منصوبہ بندی سے متعلق سرگرمیوں کے باعث حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بحران یورپ میں شینگن زون کی آزادانہ نقل و حرکت اور غیر قانونی ہجرت سے متعلق پالیسیوں پر بھی نئی بحث کا باعث بن رہا ہے۔ اٹلی کی جانب سے شینگن پابندیوں کی حمایت فن لینڈ اور ڈنمارک نے بھی کی ہے، جبکہ چیک ریپبلک نے اسپین کی شینگن رکنیت کو عارضی طور پر معطل کرنے کی تجویز تک پیش کی ہے۔

سیوتا اور میلیلا طویل عرصے سے اسپین اور مراکش کے درمیان سفارتی تنازع کا مرکز رہے ہیں۔ مراکش دونوں علاقوں پر اسپین کی خودمختاری کو تسلیم نہیں کرتا، جبکہ حالیہ مہاجر بحران نے اسپین، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک کے درمیان ہجرت اور سرحدی سکیورٹی کے معاملات کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں