سیکیورٹی خطرات، سعودی عرب نے تیل کی برآمدات کا روٹ ایک بار پھر تبدیل کر دیا

سیکیورٹی خطرات، سعودی عرب نے تیل کی برآمدات کا روٹ ایک بار پھر تبدیل کر دیا
ریاض/نیویارک: بحیرہ احمر اور باب المندب میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر سعودی عرب نے عالمی منڈیوں کو خام تیل کی ترسیل کے لیے اپنے بحری راستوں میں ایک بار پھر بڑی تبدیلی کردی ہے۔
حوثی باغیوں کی جانب سے باب المندب کے اہم سمندری راستے پر حملوں کے خطرے کے باعث سعودی عرب نے تیل کے ٹینکرز کو جنوبی بحری راستے کے بجائے متبادل شمالی راستے کی جانب موڑنا شروع کردیا ہے۔
نئے انتظام کے تحت سعودی خام تیل کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچایا جا رہا ہے، جہاں سے اسے مصر کی عین سخنہ بندرگاہ منتقل کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں خام تیل کو سمیڈ پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ روم کے ساحل پر واقع سیدی کریر تک پہنچایا جاتا ہے۔
اس متبادل راستے کے ذریعے سعودی عرب ایشیا اور یورپ میں موجود خریداروں کو باب المندب سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خطرات سے بچاتے ہوئے تیل کی ترسیل جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے باعث تیل کی کچھ سپلائی افریقہ کے گرد کیپ آف گڈ ہوپ کے طویل بحری راستے اور خلیج عمان کے کھلے سمندری راستے سے بھی منتقل کی جا رہی ہے۔
روٹس میں تبدیلی کے باعث تیل کی ترسیل کا فاصلہ اور وقت بڑھنے کے ساتھ ایندھن اور شپنگ کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عالمی توانائی منڈی میں سپلائی چین پر اضافی دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔
باب المندب آبنائے بحر احمر اور خلیج عدن کو ملاتا ہے اور عالمی تجارت خصوصاً خلیجی ممالک سے یورپ جانے والی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم سمندری گزرگاہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس راستے میں مسلسل سیکیورٹی خطرات عالمی تیل اور شپنگ مارکیٹوں کے لیے اہم چیلنج بن گئے ہیں۔