مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

شامی اڈے پر ترک فوجی موجودگی کے خدشے پر اسرائیلی حملے سے قبل موساد چیف نے شامی وزیر خارجہ سے بات کی، رائٹرز کی رپورٹ

شامی اڈے پر ترک فوجی موجودگی کے خدشے پر اسرائیلی حملے سے قبل موساد چیف نے شامی وزیر خارجہ سے بات کی، رائٹرز کی رپورٹ

شامی اڈے پر ترک فوجی موجودگی کے خدشے پر اسرائیلی حملے سے قبل موساد چیف نے شامی وزیر خارجہ سے بات کی، رائٹرز کی رپورٹ

دمشق: اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ رومن گوفمین نے شام میں ترک فوجی موجودگی کے خدشے کے معاملے پر اسرائیلی حملے سے چار روز قبل شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی سے ٹیلی فون پر بات کی تھی۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق تین ذرائع نے بتایا کہ دونوں حکام کے درمیان 14 اگست کو ہونے والی گفتگو میں شام میں ترکی کی ممکنہ فوجی تعیناتی اور شامی فورسز کو ترک ہتھیاروں، ڈرونز اور دیگر فوجی معاونت فراہم کیے جانے سے متعلق امور زیر بحث آئے۔

رپورٹ کے مطابق یہ رابطہ 18 اگست کو اسرائیل کی جانب سے شمال مغربی شام میں ابو الظہور فوجی اڈے پر فضائی حملے سے چار روز قبل ہوا۔ اسرائیل نے حملے کے لیے یہ مؤقف اختیار کیا کہ شام ترکی کے فوجیوں کو اڈے پر تعینات کرنے کے قریب تھا اور ایسی موجودگی اسرائیل کے لیے سکیورٹی خطرہ بن سکتی تھی۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے حملے کے بعد کہا تھا کہ دمشق ایک ایسے معاہدے کے قریب تھا جس کے تحت ترکی کو شام میں فوجی تعینات کرنے کی اجازت مل سکتی تھی۔ ان کے مطابق اسرائیل نے ترکی کو اس حوالے سے متعدد بار خبردار کیا تھا۔

ترکی نے اسرائیلی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے شام میں فوجی اڈے پر حملے کی مذمت کی ہے۔ انقرہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے دعوے ناقابل قبول ہیں اور شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی کا جواز پیش کرنے کے لیے کیے جارہے ہیں۔

شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے بھی اسرائیلی حملے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دمشق نے اسرائیل کو واضح طور پر آگاہ کیا تھا کہ ابو الظہور اڈے پر ترک فوجیوں کی تعیناتی کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور یہ اڈہ شامی کنٹرول میں ہی رہے گا۔

ادھر امریکا نے شام، ترکی اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم روکنے کے لیے رابطہ کاری کا طریقہ کار قائم کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ امریکی خصوصی ایلچی برائے شام ٹام بارک کے مطابق واشنگٹن تینوں ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے اور براہ راست رابطے کا نظام قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ غلط فہمیوں کے نتیجے میں کسی غیر ارادی فوجی تصادم کو روکا جاسکے۔

موساد سربراہ اور شامی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شام میں ترکی کے بڑھتے ہوئے فوجی اثرورسوخ پر اسرائیل کے تحفظات میں اضافہ ہورہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان شام کے معاملے پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں