شاید کچھ روز بعد ہم اسمبلی میں نہ رہیں، آپ کو اپنے اسٹائل کی جمہوریت مبارک، بیرسٹر گوہر

شاید کچھ روز بعد ہم اسمبلی میں نہ رہیں، آپ کو اپنے اسٹائل کی جمہوریت مبارک، بیرسٹر گوہر
اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے بجائے پمز لے جانے کے معاملے پر حکومت اور انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ شاید کچھ دن بعد پی ٹی آئی اس اسمبلی کا حصہ نہ رہے، آپ کو اپنے اسٹائل کی جمہوریت مبارک ہو۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کچھ قوتیں نہیں چاہتیں کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں رہے، اس لیے ممکن ہے کہ ہمارے لیے اس ایوان کا حصہ رہنا ممکن نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ بھی نہیں چاہتے کہ ہم اس نظام کا حصہ رہیں تو ہم آئندہ چند دنوں میں اس حوالے سے فیصلہ کریں گے۔
انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سینئر سیاستدان ہیں اور اگر ان کا فیصلہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی ارکان ایوان کے ایک کونے میں بھی نہ بیٹھیں تو ہم چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جمہوریت کو بچانا ہے تو ان باتوں پر غور کرنا ہوگا۔
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے سپورٹرز اور ووٹرز سے اپیل کی تھی کہ کوئی شخص شفا انٹرنیشنل ہسپتال نہ جائے، سپریم کورٹ کے حکم کا احترام کیا جائے اور کوئی ویڈیو نہ بنائی جائے تاکہ بانی پی ٹی آئی کے علاج میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس کے باوجود رات گئے اچانک عمران خان کو دوسرے ہسپتال کیوں لے جایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کون لوگ تھے جو عمران خان کو مبینہ طور پر غلط ہسپتال لے گئے اور پھر ایک گھنٹے کے اندر انہیں واپس لے گئے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ کچھ عناصر اس عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، تاہم انہوں نے ان عناصر کی نشاندہی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت صحت کے حوالے سے کس صورتحال سے گزر رہے ہیں۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر سیاست نہیں کی جائے گی، تاہم موجودہ صورتحال نے پارٹی کے کارکنوں اور ووٹرز کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ملک کا مقبول ترین سیاسی رہنما سمجھا جاتا ہے اور بعض حلقے ان کی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کی ایک جھلک بھی بعض لوگوں کو برداشت نہیں۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے عمران خان کے علاج اور ملاقاتوں کے حوالے سے ماضی میں بھی مختلف عدالتوں سے رجوع کیا، تاہم پارٹی کے مطابق اسے مطلوبہ انصاف نہیں مل سکا۔ انہوں نے کہا کہ سزا یافتہ قیدی کو بھی صحت اور اہل خانہ سے ملاقات سمیت بنیادی حقوق حاصل ہیں۔
بیرسٹر گوہر کے ان بیانات کے بعد عمران خان کی ہسپتال منتقلی، عدالتی احکامات پر عمل درآمد اور پی ٹی آئی کی پارلیمانی سیاست میں مستقبل کی شرکت کا معاملہ ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی میں زیر بحث آگیا ہے۔