عمران خان کا قیدِ تنہائی اور مبینہ ٹارچر کا دعویٰ، ڈاکٹر عظمیٰ کی پریس کانفرنس، ملاقات و علاج تفصیلات بتا دیں

عمران خان کا قیدِ تنہائی اور مبینہ ٹارچر کا دعویٰ، ڈاکٹر عظمیٰ کی پریس کانفرنس، ملاقات و علاج تفصیلات بتا دیں
اسلام آباد، 21 اگست: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے ملاقات کے دوران قیدِ تنہائی اور مبینہ ٹارچر سے متعلق شکایات کرتے ہوئے کہا کہ سب کو بتایا جائے کہ ان کے ساتھ شدید ظلم کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ انہیں رات ساڑھے 8 بجے اڈیالہ جیل طلب کیا گیا، جہاں سے انہیں ایک گاڑی میں لے جایا گیا۔ ان کے مطابق راستے میں علاقہ جنگل جیسا دکھائی دے رہا تھا اور پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ پمز اسپتال ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق پمز پہنچنے پر عمران خان وہاں موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ ان کی بہن تقریباً 10 ماہ بعد ان سے مل رہی ہیں۔ ڈاکٹر عظمیٰ نے کہا کہ انہوں نے عمران خان کو بتایا کہ انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال لے جایا جانا ہے جہاں ان کا مکمل طبی معائنہ ہونا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پمز میں عمران خان کی آنکھوں کے حوالے سے سوالات کیے گئے اور ان کا بلڈ پریشر بھی چیک کیا گیا۔ ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق ایک ڈاکٹر نے عمران خان کی آنکھ میں انجیکشن لگایا، جبکہ اس دوران انہیں مختلف جگہوں پر بٹھایا جاتا رہا۔

ڈاکٹر عظمیٰ نے کہا کہ عمران خان نے انہیں بتایا کہ ڈاکٹر کے مطابق طویل عرصے تک انسانی رابطے سے محرومی کے باعث ان کی طبیعت متاثر ہوئی اور ہائپر ٹینشن کا مسئلہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کی ایک آنکھ میں انجیکشن لگایا گیا جبکہ دوسری آنکھ پر پٹی باندھی گئی تھی۔
ڈاکٹر عظمیٰ نے بتایا کہ پمز سے روانگی کے وقت انہوں نے پوچھا کہ کیا عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال لے جایا جا رہا ہے، تاہم کسی نے انہیں واضح جواب نہیں دیا۔ ان کے مطابق اس دوران فجر کی اذان ہو رہی تھی اور بعد ازاں انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا، جہاں ڈاکٹر فیصل سلطان بھی دوسری گاڑی سے پہنچے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو بلڈ پریشر کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ انہیں شدید بے چینی محسوس ہو رہی تھی۔ ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق عمران خان بار بار کہتے رہے کہ گزشتہ 10 ماہ سے ان کے ساتھ بہت ظلم کیا جا رہا ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق عمران خان نے کہا کہ انہیں ٹی وی اور پڑھنے کا مواد فراہم نہیں کیا جاتا تھا، کسی سے انسانی رابطہ نہیں کرنے دیا جاتا تھا اور دو دن ٹی وی چلانے کے بعد اسے بھی بند کر دیا گیا۔
ڈاکٹر عظمیٰ نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت وہ مکمل تیاری کے ساتھ اڈیالہ جیل گئی تھیں، تاہم ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا گیا جیسے وہ بھی قیدی ہوں۔ انہوں نے عمران خان کی صحت کو مجموعی طور پر بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بلڈ پریشر 120/80 تھا اور وہ بظاہر بالکل فٹ تھے۔