غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پاکستان میں فوری اقدامات کی ضرورت: ٹیٹرا پیک

غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پاکستان میں فوری اقدامات کی ضرورت: ٹیٹرا پیک
اسلام آباد، 3 ستمبر: ٹیٹرا پیک نے پاکستان میں غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے فوڈ سیفٹی قوانین، ٹیکس نظام، بنیادی ڈھانچے اور خوراک کی سپلائی چین میں جامع اصلاحات پر زور دیا ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ اعلیٰ سطحی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹیٹرا پیک کے ڈائریکٹر کارپوریٹ افیئرز برائے پاکستان، مشرق وسطیٰ، شمالی و مغربی افریقہ نور آفتاب نے کہا کہ پاکستان کو درپیش غذائی چیلنج صرف خوراک کی دستیابی تک محدود نہیں بلکہ محفوظ، معیاری اور غذائیت سے بھرپور خوراک مناسب قیمت پر صارفین تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ خوراک کی تیاری، پراسیسنگ، پیکیجنگ، ذخیرہ اور ترسیل کے نظام کو مضبوط بنا کر غذائی شعبے کی پوری ویلیو چین میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے، تاہم اس کیلئے موزوں پالیسیوں اور سازگار کاروباری ماحول کی ضرورت ہے۔
غذائی پالیسی کے ماہرین کے ہمراہ پینل ڈسکشن میں نور آفتاب نے فوڈ سیفٹی قوانین اور ٹیکس نظام میں جامع اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غذائی تحفظ یقینی بنانے کیلئے صرف خوراک کی پیداوار میں اضافہ کافی نہیں بلکہ پورے غذائی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایسا قانونی اور پالیسی فریم ورک ضروری ہے جو محفوظ، بڑے پیمانے پر تیار ہونے والی اور غذائیت سے بھرپور پراسیسڈ مصنوعات کی فراہمی میں معاون ثابت ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات اور ٹیکس ریلیف بھی اہم ہیں تاکہ ضروری اور غذائیت سے بھرپور اشیائے خورونوش عام آدمی کی پہنچ میں رہیں، خصوصاً مہنگائی اور قوت خرید میں کمی کے موجودہ حالات میں۔
نور آفتاب نے کہا کہ کوئی بھی غذائی مصنوعات غذائیت سے بھرپور ہو سکتی ہیں، لیکن اگر وہ استعمال کیلئے محفوظ نہ ہوں تو ان کی افادیت محدود ہو جاتی ہے۔ انہوں نے فوڈ سیفٹی کو غذائی نظام کی اہم کڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ خوراک کی پراسیسنگ، پیکیجنگ، لاجسٹکس، ذخیرہ اور نقل و حمل محفوظ خوراک کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے ڈیری شعبے کو پاکستان کیلئے معاشی اور غذائی ترقی کا اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کے بڑے دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور یہ شعبہ کسانوں کی آمدنی، غذائی تحفظ، صنعتی ترقی اور مستقبل میں برآمدات کے فروغ کی نمایاں صلاحیت رکھتا ہے۔
نور آفتاب نے ڈیری صنعت کو مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی بنانے کیلئے فارم کی سطح پر دودھ کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فی جانور اوسط دودھ کی پیداوار دنیا کی نمایاں ڈیری منڈیوں کے مقابلے میں کم ہے، جس سے پیداواری صلاحیت بہتر بنانے اور ڈیری فارمنگ کو زیادہ منافع بخش بنانے کے وسیع امکانات ظاہر ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ زیادہ پیداواری صلاحیت، بہتر پراسیسنگ گنجائش اور مضبوط فوڈ سیفٹی نظام کو یکجا کرکے پاکستان کی ڈیری صنعت کے معاشی امکانات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
کانفرنس کے شرکاء نے اسکول فیڈنگ پروگرامز کو بھی غذائی قلت سے نمٹنے کیلئے مؤثر اقدام قرار دیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ ٹیٹرا پیک 1962 سے دنیا بھر میں اسکول ملک پروگرامز میں کردار ادا کر رہا ہے، جن کے تحت مختلف ممالک میں لاکھوں بچوں کو دودھ اور غذائیت سے بھرپور مشروبات فراہم کیے جا رہے ہیں۔
کانفرنس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر ہر 10 میں سے تقریباً 4 بچے نشوونما کی رکاوٹ (Stunting) کا شکار ہیں، جسے ایک قومی ہنگامی صورتحال قرار دیا گیا۔
شرکاء نے غذائی قلت پر قابو پانے کیلئے سپلائی چین میں موجود رکاوٹیں اور غیر مؤثر ترغیبات دور کرنے، افرادی قوت کی صلاحیتیں بہتر بنانے اور ملک بھر میں فوڈ سیفٹی کے یکساں معیارات متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔
مکالمے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان میں غذائی بحران سے نمٹنے کیلئے پیداوار میں اضافے کے ساتھ خوراک کی پراسیسنگ، فوڈ سیفٹی، پیکیجنگ، ذخیرہ، ترسیل اور مارکیٹ تک رسائی کے نظام کو مربوط انداز میں بہتر بنانا ہوگا تاکہ محفوظ، معیاری اور غذائیت سے بھرپور خوراک عام آدمی کی پہنچ میں لائی جا سکے۔