مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

قومی اسمبلی نے چیف آف ڈیفینس فورسز اور ایٹمی کمانڈ سے متعلق دو بل منظور کر لیے، اپوزیشن کا واک آؤٹ

تصویر

قومی اسمبلی نے چیف آف ڈیفینس فورسز اور ایٹمی کمانڈ سے متعلق دو بل منظور کر لیے، اپوزیشن کا واک آؤٹ

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے دفاعی اور جوہری کمانڈ کے ڈھانچے سے متعلق دو اہم بل منظور کر لیے، جبکہ اپوزیشن نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی بلوں کی منظوری سے قبل مشاورت نہ ہونے پر اعتراضات اٹھائے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے دفاعی افواج ایکٹ 2010 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم سے متعلق دونوں بل ایوان میں پیش کیے، جس کے بعد اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

بلاول بھٹو زرداری نے اعتراض کیا کہ بل پیش کرنے سے قبل ان کی جماعت سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ یہ بل قومی اسمبلی کے آج کے ایجنڈے میں بھی شامل نہیں تھے، تاہم وفاقی کابینہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں اسی روز ان مسودات کی منظوری دی تھی۔

وزیراعظم آفس کے مطابق دفاعی افواج ایکٹ میں ترامیم کا مقصد چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز سے متعلق انتظامی امور کا تعین کرنا ہے، جبکہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم 27ویں آئینی ترمیم کے بعد ضروری قرار دی گئی ہیں۔

27ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کرکے چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ قائم کیا گیا تھا، جو بیک وقت چیف آف آرمی اسٹاف کے پاس ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز بنے۔ ترمیم کے تحت نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے کمانڈر کا نیا عہدہ بھی تشکیل دیا گیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزرا اور پارلیمانی سیکرٹریز کی عدم موجودگی پر اسپیکر ایاز صادق نے بھی برہمی کا اظہار کیا اور کارروائی 15 منٹ کے لیے معطل کردی۔ انہوں نے وزارت بین الصوبائی رابطہ کے سیکرٹری سمیت متعلقہ حکام کو طلب کیا اور آئندہ اجلاس میں عدم حاضری کی صورت میں وزیر پارلیمانی امور اور متعلقہ افسر کے خلاف تحریک استحقاق لانے کا انتباہ بھی دیا۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں