مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

لیتھیم بیٹریوں کی ریکارڈ توڑ درآمد، پاکستان میں سولر بجلی نئے دور میں داخل

تصویر

لیتھیم بیٹریوں کی ریکارڈ توڑ درآمد، پاکستان میں سولر بجلی نئے دور میں داخل

اسلام آباد: پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹریوں کی درآمدات میں ریکارڈ اضافے نے اس بات کے واضح اشارے دیے ہیں کہ ملک میں شمسی توانائی کا شعبہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق سولر پینلز کی تیز رفتار تنصیب کے بعد اب صارفین کی توجہ بجلی ذخیرہ کرنے والی بیٹریوں پر مرکوز ہو رہی ہے، جس سے نہ صرف گرڈ پر انحصار کم ہوگا بلکہ توانائی کے استعمال کا پورا نظام بھی تبدیل ہونے کی توقع ہے۔

بزنس ریکارڈر کے تجزیے کے مطابق پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سولر پینلز کی درآمدات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے باعث لاکھوں گھروں، تجارتی اداروں اور صنعتوں نے شمسی توانائی کو اپنایا۔ تاہم اب توانائی کی مارکیٹ کا اگلا مرحلہ بیٹری اسٹوریج بن کر سامنے آ رہا ہے، کیونکہ صارفین اضافی بجلی کو قومی گرڈ میں فروخت کرنے کے بجائے اسے ذخیرہ کر کے اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے قواعد میں تبدیلی، بجلی کے مسلسل بڑھتے نرخ، گرڈ کی غیر یقینی فراہمی اور لوڈشیڈنگ کے خدشات نے بیٹریوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لیتھیم آئن بیٹریوں کی درآمدات تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور اپریل 2026 کے دوران ان کی درآمدات ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔ اندازہ ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک بیٹریوں کی مجموعی درآمدی مالیت تقریباً 25 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو چند سال پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بیٹری اسٹوریج سسٹمز شمسی توانائی کے استعمال کو زیادہ مؤثر بناتے ہیں۔ ان کی مدد سے دن کے وقت پیدا ہونے والی اضافی بجلی محفوظ کی جا سکتی ہے، جسے شام اور رات کے اوقات یا بجلی کی بندش کے دوران استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے مہنگے ٹیرف والے اوقات میں گرڈ سے بجلی خریدنے کی ضرورت کم ہوتی ہے، بجلی کے بلوں میں بچت ہوتی ہے اور صارفین کو توانائی کی زیادہ خودمختاری حاصل ہوتی ہے۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اگر بیٹریوں کی قیمتوں میں مزید کمی آتی ہے اور حکومت اس شعبے کے لیے مناسب مالی سہولیات، واضح پالیسی اور مراعات فراہم کرتی ہے تو پاکستان میں بیٹری اسٹوریج کی مارکیٹ آئندہ چند برسوں میں غیر معمولی رفتار سے ترقی کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ مقامی سطح پر بیٹریوں کی اسمبلنگ اور مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی سے درآمدی انحصار کم کرنے اور نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ بیٹریوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ معیار، حفاظتی ضوابط، ری سائیکلنگ اور استعمال شدہ بیٹریوں کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے جامع ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت ہوگی تاکہ ماحولیات اور انسانی صحت پر ممکنہ منفی اثرات سے بچا جا سکے۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے شعبے کی آئندہ ترقی صرف سولر پینلز کی تنصیب تک محدود نہیں رہے گی بلکہ سولر اور بیٹری اسٹوریج کا امتزاج بجلی کے نظام میں بنیادی تبدیلی لائے گا۔ ان کے بقول اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں بیٹری اسٹوریج پاکستان کے توانائی کے شعبے کا اہم ستون بن جائے گا، جس سے بجلی کے نظام کی استعداد، توانائی کے تحفظ اور صارفین کے اخراجات میں نمایاں بہتری آئے گی۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں