مراکش کے ساتھ مشترکہ فٹ بال ورلڈ کپ پر نظر ثانی کی جائے، سپین کی حکومتی و اپوزیشن جماعتیں متحد

مراکش کے ساتھ مشترکہ فٹ بال ورلڈ کپ پر نظر ثانی کی جائے، سپین کی حکومتی و اپوزیشن جماعتیں متحد
میڈرڈ: اسپین میں حکومتی اتحاد میں شامل بائیں بازو کی جماعت سومار اور اپوزیشن کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت ووکس نے مراکش کے ساتھ 2030 کے فٹ بال ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کے منصوبے پر نظرثانی کا مطالبہ کردیا ہے۔
بزنس انسائیڈر کے مطابق یہ مطالبہ اسپین کے زیر انتظام علاقے سیوتا میں مراکش سے آنے والے ہزاروں تارکین وطن کی حالیہ آمد کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔
سومار اور ووکس نے اس معاملے پر الگ الگ غیر پابند قراردادیں پیش کی ہیں۔ سومار کا مؤقف ہے کہ تارکین وطن کے بحران سے متعلق خدشات دور ہونے تک مراکش کو ورلڈ کپ کی میزبانی سے ملنے والی بین الاقوامی ساکھ اور معاشی فوائد نہیں دیے جانے چاہئیں۔
دوسری جانب ووکس نے مراکش کو اسپین کا قابل اعتماد شراکت دار قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 30 اور 31 جولائی کو سیوتا میں پیش آنے والے واقعات نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اسپین کی ایک اور بائیں بازو کی جماعت پوڈیموس اور پرتگال کی ماحول دوست جماعت لائیو بھی مطالبہ کرچکی ہیں کہ 2030 ورلڈ کپ اسپین اور پرتگال میں منعقد کیا جائے اور مراکش کو مشترکہ میزبانی سے الگ کردیا جائے۔
تاہم اسپین کی حکومت نے سیوتا میں تارکین وطن کی آمد کا براہ راست ذمہ دار مراکش کو قرار نہیں دیا۔ وزیر خارجہ ہوزے مینوئل الباریس نے واقعے کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مراکش نے صورتحال پر قابو پانے اور بیشتر تارکین وطن کی 48 گھنٹوں کے اندر واپسی میں تعاون کیا۔
مراکش نے بھی سرحدی نگرانی میں جان بوجھ کر نرمی برتنے کے الزام کو مسترد کیا ہے۔ مراکشی حکام کے مطابق بحران کی وجوہات میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات اور اسپین کی ایک عدالتی پابندی شامل ہیں، جس کے باعث سمندر میں پکڑے گئے تارکین وطن کی فوری واپسی محدود ہوگئی تھی۔
فیفا نے 2030 فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی اسپین، پرتگال اور مراکش کو مشترکہ طور پر سونپی ہے۔ مراکش میں ورلڈ کپ کے لیے اسٹیڈیمز، ٹرانسپورٹ اور دیگر انفراسٹرکچر منصوبوں پر بڑے پیمانے پر کام جاری ہے، تاہم فیفا نے اب تک مشترکہ میزبانی کے منصوبے میں کسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا۔