مری ایکسپریس وے کی توسیع: ترقی کا نیا باب یا کڑا امتحان؟

وفاقی حکومت کی جانب سے مری ایکسپریس وے کو مظفرآباد تک مزید 70 کلومیٹر توسیع دینے کا فیصلہ آزاد جموں و کشمیر کے لیے ایک اہم انفراسٹرکچر منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس منصوبے سے آزاد کشمیر کے عوام کو جدید، محفوظ اور تیز رفتار سفری سہولیات میسر آئیں گی، جبکہ سیاحت، تجارت اور سرمایہ کاری کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی صرف شاہراہ کی تعمیر سے نہیں بلکہ اس بات سے مشروط ہوگی کہ اس کے ساتھ جڑے ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی چیلنجز سے کس حد تک مؤثر انداز میں نمٹا جاتا ہے۔
اگر یہ منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل ہو جاتا ہے تو مری اور مظفرآباد کے درمیان سفر نہ صرف مختصر ہوگا بلکہ ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوگا۔ بہتر سڑک کے باعث مقامی آبادی، تاجروں، طلبہ، مریضوں اور سیاحوں کو آسان، محفوظ اور تیز رفتار آمدورفت کی سہولت میسر آئے گی۔ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں تک رسائی بہتر ہونے سے سیاحت میں اضافہ متوقع ہے، جس سے ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس، مقامی دستکاری، زرعی مصنوعات اور دیگر کاروباری شعبوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
اقتصادی اعتبار سے بھی یہ منصوبہ اہمیت کا حامل ہے۔ بہتر سڑکیں کسی بھی خطے میں سرمایہ کاری کو راغب کرتی ہیں اور صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہیں۔ جدید شاہراہ کے ذریعے آزاد کشمیر کی مقامی مصنوعات کو ملک کی بڑی منڈیوں تک پہنچانا نسبتاً آسان ہوگا، جبکہ تعمیراتی مرحلے میں ہزاروں افراد کے لیے براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
تاہم ترقی کے ان امکانات کے ساتھ کئی سنجیدہ خدشات بھی وابستہ ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ ماحولیاتی اثرات کا ہے، کیونکہ مجوزہ روٹ حساس پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں سے گزر سکتا ہے۔ سڑک کی تعمیر کے لیے پہاڑوں کی کٹائی اور درختوں کی ممکنہ کٹائی سے قدرتی ماحول، جنگلات اور حیاتیاتی تنوع متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ مری اور آزاد کشمیر کے جنگلات نہ صرف قدرتی حسن کی علامت ہیں بلکہ موسمیاتی توازن، بارشوں کے نظام اور جنگلی حیات کے تحفظ میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر تعمیراتی عمل کے دوران مناسب حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو ماحولیاتی نقصان طویل عرصے تک محسوس کیا جا سکتا ہے۔
پہاڑی علاقوں میں شاہراہوں کی تعمیر کا ایک اور بڑا خطرہ لینڈ سلائیڈنگ ہے۔ چٹانوں کو کاٹنے اور قدرتی ڈھلوانوں میں تبدیلی سے شدید بارشوں کے دوران مٹی اور پتھروں کے تودے گرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جس سے نہ صرف شاہراہ بلکہ قریبی آبادیوں اور مسافروں کی جان و مال کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح قدرتی ندی نالوں کے بہاؤ میں رکاوٹ یا ناقص نکاسی آب مستقبل میں سیلابی صورتحال اور سڑک کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے۔
جنگلی حیات پر بھی اس منصوبے کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شور، بھاری مشینری اور انسانی سرگرمیوں میں اضافے سے جنگلی جانوروں اور نایاب پرندوں کی قدرتی رہائش گاہیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ تعمیر سے قبل جامع ماحولیاتی اثرات کا جائزہ (EIA) لیا جائے، متبادل شجرکاری کی جائے، جدید ڈرینیج سسٹم بنایا جائے اور جنگلی حیات کے لیے محفوظ گزرگاہیں بھی منصوبے کا حصہ ہوں۔
اس منصوبے کا دوسرا بڑا چیلنج زمین کے حصول کا مرحلہ ہوگا۔ مجوزہ روٹ پر نجی اراضی، زرعی زمینیں، باغات اور بعض مقامات پر آبادیاں موجود ہیں، جن کے حصول کے لیے حکومت کو بڑی مقدار میں اراضی خریدنا پڑ سکتی ہے۔ ماضی کے کئی ترقیاتی منصوبوں میں زمین کے معاوضوں پر اختلافات، قانونی چارہ جوئی اور عوامی احتجاج منصوبوں میں تاخیر کا باعث بنتے رہے ہیں۔ اگر اس منصوبے میں بھی متاثرہ افراد کو بروقت اور منصفانہ معاوضہ نہ ملا تو یہی مسائل دوبارہ جنم لے سکتے ہیں۔
مزید برآں، زمین کے حصول کے عمل میں شفافیت نہ ہونے یا بعض بااثر افراد کی جانب سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے خدشات بھی موجود ہیں۔ منصوبے کے اعلان کے بعد روٹ کے اطراف زمینوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے حکومتی اخراجات بڑھنے کے ساتھ ساتھ قیاس آرائی اور غیر ضروری خرید و فروخت کا رجحان بھی فروغ پا سکتا ہے۔ اگر بعض خاندانوں کو نقل مکانی کرنا پڑی تو ان کی بحالی، متبادل رہائش اور روزگار کے انتظامات بھی حکومت کی ذمہ داری ہوں گے۔
منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف تعمیراتی کام پر نہیں بلکہ مؤثر منصوبہ بندی، شفافیت، بروقت فنڈز، اعلیٰ معیار کی تعمیر اور مقامی آبادی کے اعتماد پر بھی ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت ماحولیاتی تحفظ، جنگلات کے تحفظ، زمین کے منصفانہ حصول، متاثرہ افراد کی بحالی اور جدید انجینئرنگ اصولوں کو یقینی بناتی ہے تو مری ایکسپریس وے کی مظفرآباد تک توسیع آزاد کشمیر کی معیشت، سیاحت اور علاقائی ترقی میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر ان بنیادی چیلنجز کو نظر انداز کیا گیا تو یہی منصوبہ تاخیر، لاگت میں اضافے، قانونی تنازعات اور ماحولیاتی مسائل کی نذر بھی ہو سکتا ہے۔
یوں یہ منصوبہ صرف ایک نئی شاہراہ نہیں بلکہ حکومت کی منصوبہ بندی، شفاف طرزِ حکمرانی اور پائیدار ترقی کے وژن کا بھی ایک اہم امتحان ہوگا، جس کے نتائج آنے والے کئی برسوں تک آزاد کشمیر اور ملک کی مجموعی ترقی پر اثر انداز ہوں گے۔