مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

نئے انتظامی یونٹس بنانے کی طرف عملی قدم، اسلام آباد کے صوبائی سٹرکچر کا ماڈل تیار، 27 رکنی اسمبلی بنے گی

نئے انتظامی یونٹس بنانے کی طرف عملی قدم، اسلام آباد کے صوبائی سٹرکچر کا ماڈل تیار، 27 رکنی اسمبلی بنے گی

نئے انتظامی یونٹس بنانے کی طرف عملی قدم، اسلام آباد کے صوبائی سٹرکچر کا ماڈل تیار، 27 رکنی اسمبلی بنے گی

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو صوبائی طرز کے انتظامی ڈھانچے میں لانے کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں اسلام آباد کے نئے انتظامی ماڈل کا ڈرافٹ تیار کرکے وزیراعظم کو پیش کردیا گیا ہے۔ مجوزہ نظام کے تحت اسلام آباد میں 27 رکنی اسمبلی قائم کرنے اور منتخب چیف ایگزیکٹو کا عہدہ متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔

مجوزہ انتظامی ماڈل کے مطابق اسلام آباد اسمبلی کے 27 ارکان میں سے 21 براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوں گے، جبکہ خواتین کے لیے 5 اور اقلیتوں کے لیے ایک نشست مختص کرنے کی تجویز ہے۔ اسلام آباد کے موجودہ قومی اسمبلی کے 3 حلقوں میں سے ہر حلقے کے لیے 7،7 نشستیں رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

نئے نظام کے تحت اسلام آباد کے انتظامی امور منتخب حکومت کے ذریعے چلانے کی تجویز ہے، جس کے سربراہ چیف ایگزیکٹو ہوں گے۔ چیف ایگزیکٹو کو میئر یا وزیراعلیٰ کا نام دینے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ اسمبلی کے انتخابات الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذریعے کرائے جائیں گے۔

مجوزہ ماڈل میں اسلام آباد کے لیے 27 انتظامی محکمے قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ صحت، تعلیم، ماحولیات، شہری ترقی اور دیگر شہری خدمات سے متعلق محکمے نئی اسلام آباد حکومت کے ماتحت ہوں گے۔

ڈرافٹ میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کے اختیارات اور فرائض بھی نئی اسلام آباد حکومت کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت کام کرنے والے دیگر اداروں اور ان کے امور کو بھی نئے انتظامی ڈھانچے میں ضم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

مجوزہ نظام کے تحت اسلام آباد حکومت کو انتظامی اور مالی معاملات میں خودمختاری دینے کی تجویز ہے، جبکہ اسے اپنے امور چلانے کے لیے قواعد و ضوابط وضع کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

تاہم قانون، امن و امان اور ماسٹر پلاننگ جیسے اہم معاملات وفاقی حکومت کے پاس برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسلام آباد میں قائم وہ وفاقی ادارے جو پورے ملک کے لیے کام کرتے ہیں، بدستور وفاقی حکومت کے ماتحت رہیں گے۔

انتظامی ڈھانچے کو چلانے کے لیے چیف سیکریٹری اسلام آباد اور چار سیکریٹریز تعینات کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ ڈرافٹ میں اسلام آباد کے نئے نظام حکومت کے لیے جامع قانون سازی اور موجودہ متعلقہ قوانین میں ضروری ترامیم کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ مجوزہ انتظامی ماڈل وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں قائم خصوصی کمیٹی نے تیار کیا ہے۔ ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کیا جاچکا ہے تاہم اسے حتمی شکل دینے اور نافذ کرنے کے لیے مزید حکومتی غور، قانونی مراحل اور قانون سازی درکار ہوگی۔

نئے انتظامی ماڈل کی منظوری کی صورت میں اسلام آباد میں پہلی مرتبہ صوبائی طرز کی منتخب اسمبلی، چیف ایگزیکٹو اور باقاعدہ انتظامی محکموں پر مشتمل ایک نیا حکومتی ڈھانچہ تشکیل پائے گا، جسے ملک میں مزید انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث کے تناظر میں بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں