مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

نئے صوبے دو تہائی اکثریت سے بن سکتے ہیں، فیصلہ پارلیمنٹ اور متعلقہ اسمبلیاں کریں گی، اعظم نذیر تارڑ

نئے صوبے دو تہائی اکثریت سے بن سکتے ہیں، فیصلہ پارلیمنٹ اور متعلقہ اسمبلیاں کریں گی، اعظم نذیر تارڑ

نئے صوبے دو تہائی اکثریت سے بن سکتے ہیں، فیصلہ پارلیمنٹ اور متعلقہ اسمبلیاں کریں گی، اعظم نذیر تارڑ

لندن، 2 ستمبر: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام آئینی طریقہ کار کے تحت ممکن ہے اور جب پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلیاں اس حوالے سے فیصلہ کریں گی تو دو تہائی اکثریت سے نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں۔

لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اس معاملے پر کسی قیاس آرائی کی ضرورت نہیں، آئین میں نئے صوبوں کے قیام کی گنجائش موجود ہے اور جب پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلیاں چاہیں گی تو آئینی تقاضے پورے کرکے نئے صوبے بن سکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کا معاملہ محض انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ آئینی اور پارلیمانی عمل ہے۔ آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی سے متعلق آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کے علاوہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کل رکنیت کی بھی کم از کم دو تہائی منظوری ضروری ہے۔

وفاقی وزیر قانون نے گفتگو کے دوران آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ وہاں سب سے بڑا مسئلہ انتخابات کا انعقاد تھا۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر میں انتخابات پرامن اور شفاف انداز میں ہوئے۔

آزاد کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا انتخاب کرنے کا حق مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو حاصل تھا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے منتخب نمائندوں نے نواز شریف کی قیادت میں انتخابات میں حصہ لیا اور پارٹی صدر کی حیثیت سے وزیراعظم کے امیدوار کا فیصلہ کرنا ان کا اختیار تھا۔

انہوں نے نومنتخب وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی کے حوالے سے کہا کہ آزاد کشمیر کو نوجوان اور متحرک وزیراعظم ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افتخار گیلانی نوجوان اور تجربہ کار ہیں اور امید ہے کہ وہ اچھا کام کریں گے۔

وفاقی وزیر قانون نے ملک کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف متعدد مرتبہ اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

اعظم نذیر تارڑ کے نئے صوبوں سے متعلق بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک مرتبہ پھر سیاسی سطح پر زیرِ گفتگو ہے۔ تاہم وفاقی وزیر نے اپنی گفتگو میں کسی مخصوص نئے صوبے، علاقے یا مجوزہ صوبے کا نام نہیں لیا اور نہ ہی کسی نئے صوبے کے قیام کے لیے کوئی مخصوص حکومتی فیصلہ یا ٹائم لائن دی۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں