مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

وزیراعظم کی ڈسکوز کی نجکاری تیز، عالمی سرمایہ کاروں کی شمولیت یقینی بنانے کی ہدایت

وزیراعظم کی ڈسکوز کی نجکاری تیز، عالمی سرمایہ کاروں کی شمولیت یقینی بنانے کی ہدایت

وزیراعظم کی ڈسکوز کی نجکاری تیز، عالمی سرمایہ کاروں کی شمولیت یقینی بنانے کی ہدایت

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے، عالمی معیار کے سرمایہ کاروں کی شمولیت یقینی بنانے اور نجکاری کمیشن کی ادارہ جاتی اصلاحات ایک ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجکاری کے تمام مراحل مقررہ مدت، شفاف قواعد اور بہترین بین الاقوامی طریقہ کار کے مطابق مکمل کیے جائیں۔

وزیراعظم کی زیر صدارت ڈسکوز کی نجکاری اور نجکاری کمیشن کی تنظیم نو سے متعلق جائزہ اجلاس میں نجکاری کے پہلے مرحلے کی پیش رفت اور ادارہ جاتی اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں شامل گیپکو (GEPCO)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (FESCO) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (IESCO) کی نجکاری کے لیے اندرون و بیرون ملک روڈ شوز مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ ترکیہ، سعودی عرب اور چین میں سرمایہ کاروں سے رابطوں کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نجکاری کمیشن میں عالمی معیار کے مالیاتی، قانونی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کو شامل کیا جائے تاکہ ادارے کی استعداد کار میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ نجکاری کے عمل میں بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی جائیں اور تمام قانونی و مالیاتی ریگولیٹری تقاضے بروقت مکمل کیے جائیں۔

شہباز شریف نے زور دیا کہ نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفادات کو اولین ترجیح دی جائے اور نجکاری کے بعد بھی صارفین کی شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر اور جامع نظام قائم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نجکاری کا عمل شفاف، منافع بخش اور قومی مفاد کے مطابق ہونا چاہیے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی اور متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں