مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ٹرمپ کا ایران کے خلاف سخت ترین معاشی کارروائی کا اعلان، تجارتی شراکت داروں کو بھی دھمکی

ٹرمپ کا ایران کے خلاف سخت ترین معاشی کارروائی کا اعلان، تجارتی شراکت داروں کو بھی دھمکی

ٹرمپ کا ایران کے خلاف سخت ترین معاشی کارروائی کا اعلان، تجارتی شراکت داروں کو بھی دھمکی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت معاشی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا تہران کے خلاف اپنی تاریخ کی ’’سب سے سخت معاشی کارروائی‘‘ شروع کرنے جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کو بھی خبردار کیا ہے کہ انہیں سنگین معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ نے اس نئی مہم کو ’’اکنامک ڈی ڈے‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو اقتصادی طور پر شدید دباؤ میں لایا جائے گا۔ امریکی صدر کے مطابق جو ممالک ایران کو کسی بھی قسم کا معاشی سہارا فراہم کریں گے، انہیں بھی ’’بہت بڑے معاشی نتائج‘‘ بھگتنا ہوں گے۔

امریکی صدر کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کے ساتھ مذاکرات بھی فی الحال روکنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی حکام پہلے ہی عندیہ دے چکے تھے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف ایسی نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے جو اس سے پہلے نہیں دیکھی گئیں۔ ٹرمپ نے 14 اگست کو کہا تھا کہ ایران کو اقتصادی طور پر سخت نشانہ بنایا جائے گا، جبکہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی نئی سخت کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔

نئی امریکی کارروائی میں ایران کی تیل کی آمدنی اور بیرون ملک تجارت کو مزید محدود کرنے پر توجہ دی جا سکتی ہے۔ امریکی حکومت پہلے ہی ایران کے تیل، مالیاتی اداروں، شپنگ اور دیگر اہم شعبوں پر وسیع پابندیاں عائد کر چکی ہے، جبکہ امریکی محکمہ خزانہ ایران سے متعلق پابندیوں کے تحت متعدد افراد، کمپنیوں، بحری جہازوں اور مالیاتی سرگرمیوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے ایران کے تجارتی شراکت داروں کو براہ راست انتباہ بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران کے ساتھ تمام تجارت، تجارتی لین دین اور مالی معاملات مزید اطلاع تک معطل کرنے کے فیصلے کے فوراً بعد سامنے آئی ہے۔

متحدہ عرب امارات نے یہ فیصلہ ایران کی جانب سے دو بیلسٹک میزائل داغے جانے کے الزام کے بعد کیا، تاہم تہران نے اماراتی الزام مسترد کردیا ہے۔ امارات کا فیصلہ ایران کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ دبئی طویل عرصے سے ایرانی تجارت اور دوبارہ برآمدات کے لیے ایک اہم علاقائی مرکز رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے تیسرے ممالک اور کمپنیوں کے خلاف بھی ثانوی پابندیاں سخت کرتا ہے تو اس سے ایران کی عالمی تجارت، تیل کی برآمدات اور غیر ملکی زرمبادلہ تک رسائی مزید متاثر ہوسکتی ہے۔ اس کے اثرات عالمی تیل اور شپنگ مارکیٹ پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز میں پہلے ہی جاری کشیدگی کے باعث۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں