پاکستان اور اسپین کا ثقافت، آثارِ قدیمہ اور ورثے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

پاکستان اور اسپین کا ثقافت، آثارِ قدیمہ اور ورثے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
اسلام آباد: پاکستان اور اسپین نے ثقافت، آثارِ قدیمہ، ورثے کے تحفظ، عجائب گھروں، ادب، تعلیم اور ثقافتی سفارت کاری کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ اتفاق وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی اور پاکستان میں اسپین کے سفیر کارلوس آراگون گل ڈی لا سرنا کے درمیان وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت میں ہونے والی ملاقات کے دوران ہوا۔
وفاقی وزیر نے اسپین کے سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسپین کے ساتھ اپنے تاریخی اور ثقافتی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور ورثے کے تحفظ، آثارِ قدیمہ کی تحقیق، عجائب گھروں کی ترقی، ادبی تبادلوں، ثقافتی میلوں اور تعلیمی شراکت داری کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت مختلف قوموں کے درمیان باہمی روابط اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
اورنگزیب خان کچھی نے بارسلونا کے اپنے دورے کو یادگار قرار دیتے ہوئے اسپین کے ثقافتی ورثے، مہمان نوازی اور تعمیراتی حسن کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اسپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی تجارت اور دیگر شعبوں میں مثبت کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے 2007 میں پاکستان اور اسپین کے درمیان طے پانے والی ثقافتی، تعلیمی اور سائنسی تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت تعلیمی اداروں، طلبہ، ماہرین اور ثقافتی وفود کے تبادلوں کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ علامہ محمد اقبال کی شاعری اور فلسفے کو اسپین میں نمایاں پذیرائی حاصل ہے اور ان کی تصانیف کے ہسپانوی تراجم دونوں ممالک کے ادبی تعلقات کا اہم مظہر ہیں۔ انہوں نے اقبالیات، ادبی تراجم اور جامعات و کتب خانوں کے درمیان تعاون بڑھانے کی تجویز بھی پیش کی۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کے گندھارا اور بدھ مت کے تاریخی ورثے کو عالمی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے اسپین کو آثارِ قدیمہ کے مشترکہ سروے، تاریخی مقامات کے تحفظ، عجائب گھروں کی ترقی، بحالی کے منصوبوں اور ماہرین کی تربیت میں تعاون کی دعوت دی۔
انہوں نے پاکستان اور اسپین کے درمیان ثقافت اور قومی ورثے کے شعبے میں نئی مفاہمتی یادداشت پر مذاکرات کی تجویز بھی دی، جس میں مشترکہ آثارِ قدیمہ منصوبے، عجائب گھروں کے تبادلے، تربیتی پروگرام، ثقافتی میلے، فنونِ لطیفہ کی نمائشیں، ادبی تراجم اور تعلیمی تعاون شامل ہوں گے۔
وفاقی وزیر نے اسپین کو وزارت کے سالانہ ثقافتی میلے “لوک میلہ” میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اسپین اپنی ثقافت، موسیقی، رقص، روایتی کھانوں اور دستکاری کے ذریعے پاکستانی عوام کو اپنی تہذیب سے روشناس کرا سکتا ہے۔ انہوں نے سفیر کو پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کے دورے کی دعوت بھی دی۔
اس موقع پر اسپین کے سفیر کارلوس آراگون گل ڈی لا سرنا نے پاکستان کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کو سراہتے ہوئے ثقافت، آثارِ قدیمہ، عجائب گھروں، تعلیم اور ادبی تبادلوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے اسپین کے اسلامی ورثے اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل تاریخی مقامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اسپین میں علامہ محمد اقبال کے فلسفیانہ افکار کا ہسپانوی زبان میں ترجمہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے پشاور اور ٹیکسلا کے عجائب گھروں کے دوروں کو یادگار قرار دیتے ہوئے گندھارا تہذیب کی اہمیت کو سراہا، لاہور کی پتنگ بازی کی روایت کی تعریف کی اور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) کی جانب سے ہسپانوی زبان کے فروغ کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔
ملاقات کے دوران سیکریٹری قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی نے سفیر کو اسلام آباد میں ہونے والی بین الاقوامی رائٹرز کانفرنس میں اسپین کے ممتاز ادیبوں کی شرکت کی دعوت دی اور اسلام آباد میوزیم کی گندھارا گیلری کا دورہ کرنے کی بھی دعوت دی۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے ثقافتی تعاون کو عملی شکل دینے، ادارہ جاتی روابط کو فروغ دینے اور پاکستان و اسپین کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔