مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

چین میں تقریباً 20 سال سے نابینا خاتون کی بینائی بحال، برین کمپیوٹر انٹرفیس امپلانٹ کا کامیاب تجربہ

چین میں تقریباً 20 سال سے نابینا خاتون کی بینائی بحال، برین کمپیوٹر انٹرفیس امپلانٹ کا کامیاب تجربہ (تصویر 1)

چین میں تقریباً 20 سال سے نابینا خاتون کی بینائی بحال، برین کمپیوٹر انٹرفیس امپلانٹ کا کامیاب تجربہ

شنگھائی/ہانگژو: چین میں تقریباً 20 سال سے شدید بصری محرومی کا شکار 40 سالہ خاتون نے مقامی طور پر تیار کردہ ہائی ریزولوشن ریٹینا بیسڈ ویژول برین کمپیوٹر انٹرفیس (BCI) امپلانٹ کے بعد بصری صلاحیت دوبارہ حاصل کر لی ہے۔ یہ چین میں اس نوعیت کے پہلے کلینیکل ٹرائل کا کیس ہے۔

خاتون، جنہیں رپورٹ میں فرضی نام ’لنگ لنگ‘ سے شناخت کیا گیا ہے، ریٹینائٹس پگمنٹوسا نامی بیماری میں مبتلا تھیں، جس کے باعث ان کی ریٹینا کی حساس تہہ شدید اور ناقابل واپسی نقصان کا شکار ہو گئی تھی۔ وہ صرف انتہائی کمزور روشنی محسوس کر سکتی تھیں اور چہرے، اشکال یا روشنی کے سائے کو پہچاننے کی صلاحیت بھی کھو چکی تھیں۔

چین میں تقریباً 20 سال سے نابینا خاتون کی بینائی بحال، برین کمپیوٹر انٹرفیس امپلانٹ کا کامیاب تجربہ (تصویر 2)

مئی 2026 میں ژجیانگ پراونشل پیپلز ہسپتال کے آفتھلمولوجی سینٹر میں خاتون کو 320 ریزولوشن والا ریٹینا پاتھ ویژول BCI امپلانٹ لگایا گیا۔ یہ چین میں تیار کردہ ہائی ریزولوشن ریٹینا بیسڈ ویژول BCI ٹیکنالوجی کا پہلا کلینیکل ٹرائل قرار دیا جا رہا ہے۔

اس نظام میں آنکھ کے اندر ہائی ڈینسٹی الیکٹروڈز پر مشتمل ایک مخصوص اری نصب کی جاتی ہے، جو باقی ماندہ ریٹینل خلیوں کو برقی محرکات فراہم کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ایک اسمارٹ چشمہ استعمال کیا جاتا ہے، جس میں نصب کیمرہ بیرونی مناظر کی تصاویر حاصل کر کے انہیں ایسے سگنلز میں تبدیل کرتا ہے جنہیں امپلانٹ کے ذریعے ریٹینا تک پہنچایا جاتا ہے۔

امپلانٹ کے بعد دو ماہ سے زائد عرصے کی مسلسل تربیت کے دوران خاتون کی بصری صلاحیت میں بتدریج بہتری دیکھی گئی۔ وہ اب بعض انگریزی حروف، مثلاً L، C، H اور R، کو پہچاننے کے قابل ہو گئی ہیں جبکہ چینی حروف لکھنے کی مشق بھی کر رہی ہیں۔

چین میں تقریباً 20 سال سے نابینا خاتون کی بینائی بحال، برین کمپیوٹر انٹرفیس امپلانٹ کا کامیاب تجربہ (تصویر 3)

رپورٹ کے مطابق خاتون روزمرہ استعمال کی بعض اشیا، جن میں ماؤس اور بوتل شامل ہیں، شناخت کرکے پکڑ سکتی ہیں۔ وہ گھر کے اندر سیدھی سمت میں چلنے اور راستے میں دائیں زاویے پر مڑنے کی مشق بھی کامیابی سے کر رہی ہیں، جس سے ان کی عملی بصری صلاحیت میں بہتری ظاہر ہوتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والی مصنوعی بینائی قدرتی بینائی سے مختلف ہوتی ہے، اس لیے دماغ کو نئے برقی سگنلز کی تشریح سیکھنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے خاتون کی بصری صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے طویل مدتی بحالی اور تربیتی پروگرام جاری رکھا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ریٹینائٹس پگمنٹوسا جیسی ڈیجنریٹو آنکھوں کی بیماریوں کے باعث بینائی سے محروم ہونے والے مریضوں کے لیے نئی امید پیدا کرتی ہے اور مستقبل میں بصری بحالی کے لیے برین کمپیوٹر انٹرفیس ٹیکنالوجی کے مزید استعمال کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں