مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

چین نے سمندر میں شمسی توانائی کے لیے دنیا کا پہلا بانس پلیٹ فارم قائم کر دیا

چین نے سمندر میں شمسی توانائی کے لیے دنیا کا پہلا بانس پلیٹ فارم قائم کر دیا (تصویر 1)

چین نے سمندر میں شمسی توانائی کے لیے دنیا کا پہلا بانس پلیٹ فارم قائم کر دیا

بیجنگ: چین نے سمندر میں شمسی توانائی کی پیداوار کے لیے دنیا کا پہلا بانس پر مبنی آف شور سولر پلیٹ فارم قائم کر دیا ہے، جو قابل تجدید توانائی اور ماحول دوست انجینئرنگ کے میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

چین نے سمندر میں شمسی توانائی کے لیے دنیا کا پہلا بانس پلیٹ فارم قائم کر دیا (تصویر 2)

پیپلز ڈیلی چائنہ کی رپورٹ کے مطابق 100 کلو واٹ صلاحیت کا “جلن-2” (Jilin-2) نامی آف شور فوٹو وولٹائک پلیٹ فارم مشرقی چین کے صوبہ شان ڈونگ کے شہر یانتائی میں کامیابی سے نصب کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے پہلی بار سمندری قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بانس پر مبنی انجینئرنگ مواد کو عملی طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پلیٹ فارم کی تعمیر میں بانس سے تیار کردہ کمپوزٹ پائپس اور سمندری ماحول کے لیے خصوصی طور پر تیار کیے گئے اعلیٰ کارکردگی کے حامل بانس پر مبنی انجینئرنگ مواد استعمال کیے گئے ہیں۔

چین نے سمندر میں شمسی توانائی کے لیے دنیا کا پہلا بانس پلیٹ فارم قائم کر دیا (تصویر 3)

ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی فولادی ڈھانچوں اور ہائی ڈینسٹی پولی ایتھلین فلوٹس کے مقابلے میں یہ پلیٹ فارم سمندری ماحولیاتی نظام پر کم منفی اثرات مرتب کرے گا، جس سے ماحول دوست انداز میں بجلی کی پیداوار کو مزید پائیدار بنایا جا سکے گا۔

اس منصوبے کو چین کی قابل تجدید توانائی، سبز ٹیکنالوجی اور کم کاربن ترقی کے اہداف کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں