چین کے پہلے سمندری تیرتے سولر پاور منصوبے نے ایک کروڑ کلوواٹ گھنٹے سے زائد بجلی پیدا کر لی

چین کے پہلے سمندری تیرتے سولر پاور منصوبے نے ایک کروڑ کلوواٹ گھنٹے سے زائد بجلی پیدا کر لی
بیجنگ: چین کے پہلے سمندری پانی میں قائم تیرتے فوٹو وولٹائک (پی وی) منصوبے نے 2025 کے وسط میں آپریشن شروع ہونے کے بعد اب تک مجموعی طور پر ایک کروڑ (10 ملین) کلوواٹ گھنٹے سے زائد بجلی پیدا کر لی ہے۔

پیپلز ڈیلی چائنا کے مطابق یہ منصوبہ مشرقی چین کے صوبہ شان ڈونگ کے شہر چنگ ڈاؤ میں واقع ہے۔ تقریباً 60 ہزار مربع میٹر پر پھیلے اس منصوبے کی نصب شدہ پیداواری صلاحیت 7.5 میگاواٹ ہے۔

رپورٹ کے مطابق منصوبے میں جدید انجینئرنگ ڈیزائن استعمال کیا گیا ہے، جس کے تحت سولر پینل سمندر کی سطح پر تیرتے ہیں اور مدوجزر کے ساتھ حرکت کرتے رہتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت سولر پینلز اور پانی کی سطح کے درمیان انتہائی کم فاصلہ برقرار رہتا ہے، جو روایتی ستونوں پر نصب ڈھانچوں کے مقابلے میں تقریباً دس گنا کم ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ جدید ڈیزائن بجلی کی پیداوار میں بہتری، سمندری ماحول سے مطابقت اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی پائیداری میں اہم کردار ادا کرے گا۔