کینیا کے صدر کا ٹاٹا کیمیکلز کو ملک چھوڑنے کا حکم، کمپنی مقامی صنعت کو مضبوط بنانے کے جائے خام مال ایکسپورٹ کرتی رہی

کینیا کے صدر کا ٹاٹا کیمیکلز کو ملک چھوڑنے کا حکم، کمپنی مقامی صنعت کو مضبوط بنانے کے جائے خام مال ایکسپورٹ کرتی رہی
نیروبی، 4 ستمبر: کینیا نے اپنے قدرتی وسائل سے غیر ملکی کمپنیوں کو فائدہ اٹھانے کے روایتی ماڈل کو چیلنج کرتے ہوئے بھارتی گروپ ٹاٹا کی ذیلی کمپنی ٹاٹا کیمیکلز میگاڈی لمیٹڈ کو ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا ہے۔ صدر ولیم روٹو نے کمپنی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے جھیل میگاڈی کے قیمتی معدنی وسائل سے فائدہ اٹھا رہی ہے لیکن اس کے مقابلے میں کینیا، بالخصوص کاجیادو کے مقامی لوگوں کو مطلوبہ صنعتی، معاشی اور روزگار کے فوائد نہیں مل سکے۔
صدر روٹو نے 3 ستمبر کو کاجیادو کاؤنٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جھیل میگاڈی کے وسائل کینیا اور کاجیادو کی معیشت کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم طویل عرصے سے کام کرنے والی ٹاٹا کیمیکلز نے علاقے میں مطلوبہ صنعتی سرمایہ کاری نہیں کی۔
روٹو نے سخت لہجے میں کہا کہ انہوں نے کمپنی کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی ہے اور حکومت اب ایک نئے سرمایہ کار کو لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ ان کے مطابق نئے سرمایہ کار کو صرف معدنیات نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ اسے کینیا کے اندر ہی ان وسائل سے مزید صنعتی مصنوعات تیار کرنا ہوں گی۔
یہ تنازع دراصل صرف ایک بھارتی کمپنی اور کینیا کی حکومت کے درمیان اختلاف نہیں بلکہ اس بڑے سوال سے جڑا ہے کہ قدرتی وسائل سے پیدا ہونے والی دولت کا اصل فائدہ کس کو ملنا چاہیے: وسائل رکھنے والے ملک کو یا ان وسائل سے کاروبار کرنے والی عالمی کمپنیوں کو؟
جھیل میگاڈی میں ٹاٹا کیمیکلز ٹرونا نامی قدرتی معدنیات نکالتی ہے، جسے پراسیس کرکے سوڈا ایش تیار کی جاتی ہے۔ سوڈا ایش شیشہ سازی، ڈٹرجنٹس، کیمیکلز اور متعدد صنعتی مصنوعات میں استعمال ہونے والا اہم خام مال ہے۔ کمپنی کے مطابق وہ سالانہ 350,000 ٹن سے زیادہ سوڈا ایش تیار کرتی ہے، جس کا بڑا حصہ بیرون ملک مارکیٹوں کو برآمد کیا جاتا ہے۔
کینیا حکومت کا اعتراض یہی ہے کہ ملک میں موجود اس قدرتی دولت کو صرف نکال کر پراسیس شدہ خام مال کی شکل میں برآمد کرنا کافی نہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ جھیل میگاڈی کے وسائل کی بنیاد پر کینیا کے اندر ہی شیشہ سازی، کیمیکل مینوفیکچرنگ اور دیگر متعلقہ صنعتیں قائم ہوں تاکہ معدنی دولت سے پیدا ہونے والی زیادہ سے زیادہ معاشی قدر ملک کے اندر رہے۔
صدر روٹو نے اعلان کیا ہے کہ نئے سرمایہ کار کے لیے یہی بنیادی شرط ہوگی۔ حکومت کے مطابق نئے آپریٹر کو کاجیادو میں شیشہ سازی کا پلانٹ اور کیمیکل پروسیسنگ کی صنعت قائم کرنا ہوگی۔ اس کا مقصد محض معدنیات نکالنے کے بجائے mining کو manufacturing کے ساتھ جوڑنا اور کینیا کو معدنی خام مال کے برآمد کنندہ سے صنعتی مصنوعات کے پیدا کنندہ میں تبدیل کرنا ہے۔
تنازع اچانک نہیں پھوٹا
ٹاٹا کے خلاف موجودہ اقدام سے تقریباً ایک ماہ قبل کینیا کی وزارتِ کان کنی نے کمپنی کے کان کنی کے آپریشنز معطل کردیئے تھے۔ 28 جولائی کو وزارت نے کمپنی کو Mining Act اور متعلقہ قوانین کی مکمل تعمیل تک کام روکنے کا حکم دیا۔
وزارتِ کان کنی کے مطابق حکومت اور کمپنی کے درمیان طویل عرصے سے بات چیت جاری تھی لیکن کئی اہم معاملات حل نہیں ہوسکے تھے۔ ان میں معدنی وسائل کی beneficiation اور value addition کے لیے واضح حکمت عملی، رائلٹی کی ادائیگی اور حساب کتاب، معدنی برآمدات کی رپورٹنگ، مقامی کمیونٹی کے ترقیاتی معاہدوں پر عملدرآمد، کینیا کے شہریوں کے لیے روزگار اور skills transfer، مقامی کمپنیوں سے خریداری اور ماحولیاتی تقاضوں کی پابندی شامل تھی۔
یہ اعتراضات دراصل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت ٹاٹا کے صرف معدنیات نکالنے والے کاروباری ماڈل سے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔
کینیا حکومت کے مطلوبہ ماڈل کا خلاصہ یوں کیا جاسکتا ہے:
معدنی وسائل نکالے جائیں، مقامی سطح پر مزید پراسیسنگ ہو، انہی وسائل سے نئی صنعتیں قائم ہوں، مقامی افراد کو روزگار ملے، تکنیکی مہارت منتقل ہو، مقامی کمپنیوں کو سپلائی چین میں شامل کیا جائے، حکومت کو مکمل رائلٹی اور محصولات ملیں اور میزبان کمیونٹی بھی براہ راست ترقیاتی فوائد حاصل کرے۔
حکومت کا سب سے بڑا سوال: مقامی لوگوں کو کیا ملا؟
صدر روٹو کا سب سے سخت اعتراض مقامی آبادی کے فائدے سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹاٹا کیمیکلز کو جھیل میگاڈی کے وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کاجیادو میں زیادہ بڑی صنعتی بنیاد قائم کرنی چاہیے تھی۔
حکومت کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کمپنی کتنی معدنیات نکالتی ہے یا کتنی سوڈا ایش برآمد کرتی ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس سرگرمی سے مقامی لوگوں کے لیے کتنی ملازمتیں، کاروباری مواقع، صنعتی یونٹس اور تکنیکی مہارت پیدا ہوئی۔
اسی تناظر میں کینیا حکومت نے مقامی روزگار، skills transfer اور local procurement کو بھی compliance کے اہم معاملات میں شامل کیا ہے۔
ٹاٹا کا دفاع بھی سامنے آگیا
تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ ٹاٹا کیمیکلز نے حکومت کے الزامات کو تسلیم نہیں کیا اور کہا ہے کہ اس نے وزارتِ کان کنی کی جانب سے مانگی گئی تمام معلومات، رپورٹس اور دستاویزات جمع کرا دی ہیں اور متعلقہ regulatory requirements کی تعمیل ثابت کردی ہے۔
کمپنی کے مطابق وہ حکومت کے ساتھ تعاون کررہی ہے اور regulatory process کا احترام کرتی ہے۔ ٹاٹا نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کے آپریشن سے تقریباً 500 ملازمین اور ان کے خاندانوں کے علاوہ contractors، suppliers، transporters اور مقامی کاروبار وابستہ ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کے کمیونٹی پروگراموں سے تقریباً 30,000 افراد مستفید ہوتے ہیں، جن میں پانی، صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق سہولیات شامل ہیں۔
چنانچہ حکومت کے الزامات کو عدالتی طور پر ثابت شدہ حقائق قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ فی الحال یہ کینیا حکومت کے regulatory اور سیاسی اعتراضات ہیں جبکہ ٹاٹا ان اعتراضات کے جواب میں اپنی compliance کا مؤقف پیش کر رہی ہے۔
ٹاٹا کے اخراج کی قیمت بھی ہوگی
کینیا حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان اب شروع ہوگا۔ ٹاٹا کو نکالنا ایک سیاسی فیصلہ ہوسکتا ہے، لیکن اس آپریشن کی جگہ ایک ایسا سرمایہ کار لانا جو واقعی مقامی صنعت، روزگار اور value addition پیدا کرسکے، کہیں زیادہ مشکل مرحلہ ہوگا۔
مقامی رپورٹس کے مطابق ٹاٹا کے اخراج سے تقریباً 7.4 ارب کینیا شلنگ کی سالانہ تجارت متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ کمپنی کا آپریشن براہ راست اور بالواسطہ طور پر ملازمتوں، سپلائرز، ٹرانسپورٹرز، مقامی کاروبار اور برآمدی آمدنی سے منسلک ہے۔
دوسری طرف اگر حکومت اپنے اعلان کے مطابق نئے سرمایہ کار کو واقعی شیشہ سازی اور کیمیکل مینوفیکچرنگ کی صنعتیں قائم کرنے پر مجبور کرتی ہے تو کینیا کو معدنی وسائل سے کہیں زیادہ معاشی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔
یہی صدر روٹو کی پالیسی کا اصل امتحان ہے۔
معدنیات سے صنعت تک
کینیا کا موجودہ تنازع دنیا کے ان متعدد ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی اہم مثال بن سکتا ہے جہاں غیر ملکی کمپنیاں قدرتی وسائل نکال کر انہیں بیرون ملک فروخت کرتی ہیں، جبکہ زیادہ منافع بخش manufacturing اور downstream industries دوسرے ممالک میں قائم ہوتی ہیں۔
روٹو حکومت کا پیغام واضح ہے: اگر غیر ملکی کمپنی کینیا کے وسائل استعمال کرے گی تو اسے کینیا میں ہی زیادہ معاشی قدر پیدا کرنا ہوگی۔
یعنی اب صرف یہ سوال نہیں ہوگا کہ ’’ملک میں کتنی معدنیات نکالی گئیں؟‘‘ بلکہ سوال یہ ہوگا کہ ’’ان معدنیات سے ملک کے اندر کتنی نئی صنعت، کتنے روزگار، کتنی ٹیکنالوجی اور کتنی اضافی معاشی قدر پیدا ہوئی؟‘‘
یہی وجہ ہے کہ ٹاٹا کیمیکلز کا معاملہ کینیا میں ایک بڑے معاشی اور پالیسی موڑ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ حکومت ایک طرف غیر ملکی سرمایہ کاری کو مقامی مفاد سے مشروط کرنے کی کوشش کررہی ہے، جبکہ دوسری طرف اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ سخت شرائط کے باوجود وہ ایسے سرمایہ کار لاسکتی ہے جو اربوں شلنگ کی برآمدی سرگرمی کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ کینیا میں نئی صنعتیں بھی قائم کرے۔
اگر حکومت یہ کرنے میں کامیاب ہوگئی تو جھیل میگاڈی صرف سوڈا ایش پیدا کرنے کا مرکز نہیں رہے گی بلکہ کینیا کی صنعتی تبدیلی کی مثال بن سکتی ہے۔ لیکن اگر نیا سرمایہ کار بھی مطلوبہ سرمایہ کاری نہ کرسکا تو ٹاٹا کو نکالنے کا فیصلہ روزگار، برآمدات اور سرمایہ کاری کے حوالے سے کینیا کے لیے ایک مہنگا تجربہ ثابت ہوسکتا ہے۔
یوں جھیل میگاڈی میں اصل لڑائی صرف ٹاٹا اور کینیا حکومت کے درمیان نہیں، بلکہ قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی دولت کے پرانے ماڈل اور مقامی صنعت پر مبنی نئے معاشی ماڈل کے درمیان ہے۔