گوگل کے چیف سائنسدان جیف ڈین مستعفی، چار ممتاز ماہرین نے مل کر نئی اے آئی کمپنی “ڈسکوری لوپ” قائم کر لی

گوگل کے چیف سائنسدان جیف ڈین مستعفی، چار ممتاز ماہرین نے مل کر نئی اے آئی کمپنی “ڈسکوری لوپ” قائم کر لی
سان فرانسسکو: گوگل کے چیف سائنسدان اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے کی ممتاز شخصیت جیف ڈین نے 27 سال بعد کمپنی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے گوگل کے تین دیگر ممتاز اے آئی ماہرین کے ساتھ مل کر “ڈسکوری لوپ” (Discovery Loop) کے نام سے نئی کمپنی قائم کی ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ذریعے سائنسی اور انجینئرنگ تحقیق میں انقلابی پیش رفت لانا ہے۔
جیف ڈین 1999 میں گوگل میں شامل ہوئے تھے، جب کمپنی اپنے ابتدائی دور میں تھی۔ انہیں گوگل سرچ، میپ ریڈیوس (MapReduce)، ٹینسر فلو (TensorFlow)، ٹینسر پروسیسنگ یونٹس (TPUs)، گوگل برین اور حالیہ جیمنی (Gemini) مصنوعی ذہانت منصوبے کی تیاری اور ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے والی شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔
ڈسکوری لوپ کے شریک بانیوں میں گوگل کے سینئر انجینئر سنجے گھیماوت، گوگل ڈیپ مائنڈ کے ممتاز سائنسدان اوریول وینیالس اور گوگل برین کے بانی ارکان میں شامل کووک لی بھی شامل ہیں۔ یہ چاروں ماہرین مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور جدید کمپیوٹنگ کے میدان میں عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق ڈسکوری لوپ جدید اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے سائنسی تحقیق اور انجینئرنگ کے تجربات کو تیز، مؤثر اور زیادہ خودکار بنانے پر کام کرے گی۔ کمپنی کا ہدف ایسے ذہین نظام تیار کرنا ہے جو ہزاروں تحقیقی تجربات کا تجزیہ کرکے نئی سائنسی دریافتوں اور انجینئرنگ اختراعات کی رفتار میں نمایاں اضافہ کر سکیں۔
رپورٹس کے مطابق نئی کمپنی کو متعدد معروف وینچر کیپیٹل اداروں کی مالی معاونت حاصل ہے، جبکہ گوگل کی بنیادی کمپنی الفابیٹ بھی اس میں سرمایہ کار اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ پارٹنر کے طور پر شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق جیف ڈین اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے ڈسکوری لوپ کا قیام مصنوعی ذہانت کی عالمی صنعت میں ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ یہ ٹیم گوگل کی کئی انقلابی ٹیکنالوجیز کی بنیاد رکھنے میں مرکزی کردار ادا کر چکی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ نئی کمپنی سائنسی تحقیق اور اے آئی کی ترقی کو نئی سمت دے گی۔