جدید کیپٹل مارکیٹس کا قیام علاقائی خوشحالی کیلئے ناگزیر، شاہد عمران

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ ایوان ہائے وفاقی صنعت و تجارت کی ذیلی کمیٹی خوراک کے کنوینر شاہد عمران نے کہا ہے کہ ایشیا میں جدید کیپٹل مارکیٹس کے قیام، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار ترقی کے لیے وسیع تر علاقائی تعاون اور جدت ناگزیر ہے۔ اتوار کو تاجروں کے ایک وفد سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے شاہد عمران نے زور دیا کہ موجودہ تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی صورتحال میں کوئی بھی ملک تنہائی میں ترقی کے اہداف حاصل نہیں کر سکتا، اس لیے سارک ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے مالیاتی نظام میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ تاریخی سنگ میل ہے جس سے خطے میں اقتصادی استحکام کی نئی راہیں کھلیں گی اور باہمی تجارت کے فروغ میں مدد ملے گی۔
علاقائی تعاون اور مالیاتی استحکام
شاہد عمران نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی رکاوٹوں میں کمی اور ادارہ جاتی روابط کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، مربوط کیپٹل مارکیٹس سے نہ صرف سرحد پار سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا بلکہ وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنانے اور عالمی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ جدید مالیاتی ٹیکنالوجی، بہتر گورننس اور شفافیت کے شفاف نظام کے ذریعے ہی ایشیائی منڈیوں کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔
سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی ضرورت
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شاہد عمران کا کہنا تھا کہ حکومتوں کو کارپوریٹ سیکٹر، چیمبرز آف کامرس اور مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر ایسی سرمایہ کار دوست پالیسیاں تشکیل دینی چاہئیں جو طویل مدتی اقتصادی اہداف سے ہم آہنگ ہوں۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ مسلم امہ کے اتحاد کیلئے اہم پیش رفت ہے اور اس طرح کے اقدامات سے خطے میں اقتصادی و تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا جس سے بالآخر عوام کی معاشی حالت بہتر ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سارک ممالک کے اندر باہمی اقتصادی تعاون بڑھانے سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جو کہ پائیدار ترقی کا ضامن ہے۔ اس حوالے سے پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب معاہدے میں آرمی چیف کا کلیدی کردار بھی خطے میں معاشی استحکام کے لیے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔