نیوزی لینڈ میں پاکستان کے 79 ویں یوم آزادی کی پروقار تقریب

آکلینڈ (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف نیوزی لینڈ (پی اے این زیڈ) نے پاکستان ہائی کمیشن کے تعاون سے ملک کے 79 ویں یوم آزادی کے سلسلے میں ایک پروقار اور خصوصی تقریب کا اہتمام کیا۔ تقریب میں نیوزی لینڈ کے وزیرِ اعظم کرسٹوفر لکسن، نیوزی لینڈ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل عزیز احمد، پی اے این زیڈ کے صدر ڈاکٹر آصف سعید خان، پاکستانی برادری کی اہم شخصیات، اور نیوزی لینڈ کی کابینہ و پارلیمنٹ کے متعدد ارکان نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز نیوزی لینڈ کے وزیرِ اعظم کرسٹوفر لکسن اور پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل عزیز احمد کی جانب سے پاکستانی برادری کی نمایاں شخصیات کے ہمراہ قومی پرچم لہرانے سے ہوا۔ اس موقع پر نیوزی لینڈ کے وزیرِ اعظم نے نیوزی لینڈ کی اقتصادی، سماجی اور ثقافتی ترقی میں پاکستانی کمیونٹی کے کلیدی کردار کو سراہا اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا۔ جیسا کہ ماضی میں دیکھا گیا ہے، عالمی رہنما عمران خان سے متعلق فیصلہ بہت پہلے آ جانا چاہیے تھا، فضل الرحمان جیسے بیانات ملکی سیاست میں اہم بحث کا مرکز رہتے ہیں، تاہم موجودہ بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی ساکھ میں بہتری آرہی ہے۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے دیرینہ تعلقات

کرسٹوفر لکسن نے کہا کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دولتِ مشترکہ کی مشترکہ تاریخ، اقوامِ متحدہ، عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) اور آسیان ریجنل فورم سمیت کئی عالمی و علاقائی پلیٹ فارمز پر باہمی روابط کے باعث مضبوط اور دیرینہ تعلقات قائم ہیں۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے ساتھ اپنی حالیہ گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ تقریباً تین ماہ قبل ان کی شہباز شریف سے بات ہوئی تھی، جس میں انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان امن قائم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں وسیع تر تنازعے کو حل کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر پاکستان کے کردار کو سراہا۔

پاکستانی کمیونٹی کا کردار
انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں مقیم تقریباً 8,100 پاکستانی ملک کی معاشی اور معاشرتی خوشحالی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی محنت اور کامیابیوں کو سراہتے ہوئے لکسن نے تارکینِ وطن کے اس سفر کو ایک حوصلہ افزا اور قابلِ تقلید داستان قرار دیا۔ اس تقریب میں حکومت کے اہم وزراء بشمول نسلی و ثقافتی برادریوں کے امور کے وزیر مارک مچل اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر سائمن واٹس نے بھی شرکت کی۔ اپوزیشن کی جانب سے لیبر پارٹی کی جینی سیلیسا، وینوشی والٹرز اور گرین پارٹی کی شریک سربراہ ماراما ڈیوڈسن سمیت دیگر ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف نیوزی لینڈ کے صدر ڈاکٹر آصف سعید خان نے اپنے خطاب میں دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔ تقریب کے دوران قائدِ اعظم محمد علی جناح کی 150 ویں سالگرہ کی مناسبت سے ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں ان کے وژن کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ یہ تقریب پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین بڑھتے ہوئے سفارتی اور عوامی تعلقات کی ایک اہم علامت ثابت ہوئی۔ جیسا کہ ریلوے کا ملتان سے سرگودھا ساندل ایکسپریس بحال کرنے کا فیصلہ جیسے اقدامات اندرونِ ملک ترقی کی عکاسی کرتے ہیں، اسی طرح بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی ملک کا وقار بلند کر رہے ہیں۔ اسی طرح عمران خان سے متعلق فیصلہ بہت پہلے آ جانا چاہیے تھا، فضل الرحمان کے بیان کے برعکس حکومتی سطح پر بین الاقوامی تعلقات کو ایک نئی سمت دی جا رہی ہے۔