اسلام آباد کشمیر چوک انڈر پاس منصوبہ: 1.4 ارب کی لاگت

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے وفاقی دارالحکومت کے اہم ٹریفک پوائنٹ کشمیر چوک پر تقریباً 1.4 ارب روپے کی لاگت سے انڈر پاس کی تعمیر کے منصوبے پر پیش رفت شروع کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اہم منصوبے کے لیے موصول ہونے والی تکنیکی بولیاں کھول دی گئی ہیں، تاہم ایک بولی دہندہ کی جانب سے اعتراض کے باعث مالی بولیوں کا مرحلہ فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔
منصوبے کا ٹریفک پلان اور افادیت
یہ منصوبہ مری روڈ پر اسلام آباد کلب کے قریب کشمیر چوک پر تعمیر کیا جائے گا۔ مجوزہ ٹریفک پلان کے تحت سرینا کی جانب سے راولپنڈی جانے والی ٹریفک انڈر پاس سے گزرے گی، جبکہ مری کی سمت جانے والی گاڑیاں انڈر پاس کے اوپر تعمیر کی جانے والی سڑک استعمال کریں گی۔ سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد کشمیر چوک پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا، مختلف سمتوں سے آنے والی گاڑیوں کے باہمی تصادم کے امکانات گھٹانا اور مجموعی طور پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانا ہے۔ جس طرح وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ڈپلومیٹک انکلیو میں سکیورٹی کا دورہ انتظامی امور میں بہتری لاتا ہے، اسی طرح یہ منصوبہ بھی اسلام آباد کے شہریوں کے لیے سفری سہولیات کا باعث بنے گا۔
ٹینڈرنگ کا عمل اور قانونی رکاوٹ
رپورٹس کے مطابق منصوبے کے لیے حبیب کنسٹرکشن سروسز (HCS) اور ایم ایس کامران خان (کنڈی گروپ) نے تکنیکی بولیاں جمع کرائیں۔ تکنیکی جانچ کے بعد کنڈی گروپ کی بولی کو ‘نان ریسپانسیو’ قرار دیا گیا، جس پر کمپنی نے سی ڈی اے کے سامنے اعتراض دائر کر دیا۔ ذرائع کے مطابق شکایت کے فیصلے تک مالی بولیاں کھولنے کا عمل روک دیا گیا ہے۔ سی ڈی اے حکام شکایت کا جائزہ لے رہے ہیں اور فیصلہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق کیا جائے گا۔ اگر شکایت مسترد ہوتی ہے تو متعلقہ کمپنی کو پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ سرکاری ٹینڈر دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کا نام ‘Traffic Management Solution at Kashmir Chowk, Murree Road, Islamabad’ رکھا گیا ہے جبکہ کام کی تکمیل کے لیے 90 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ منصوبے کے لیے مالی سال 2026-27 میں فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
پس منظر اور مستقبل کا لائحہ عمل
کشمیر چوک اسلام آباد کے اہم ترین ٹریفک جنکشنز میں شامل ہے جہاں مری، بھارہ کہو، راولپنڈی اور وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے آنے والی ٹریفک آپس میں ملتی ہے۔ مصروف اوقات میں یہاں ٹریفک کا دباؤ بڑھنے سے گاڑیوں کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح کی ٹریفک مینجمنٹ کے دیگر منصوبوں کی طرح حکومت ملک بھر میں انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے کوشاں ہے، جیسا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے حل کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام اہم پیش رفت ہے۔ سی ڈی اے نے کشمیر چوک پر ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے اس منصوبے پر مختلف مراحل میں کام آگے بڑھایا۔ رواں سال اتھارٹی نے کشمیر چوک اور ملحقہ علاقوں میں ٹریفک مینجمنٹ سے متعلق انجینئرنگ کنسلٹنسی خدمات کے لیے بھی پیش رفت کی تھی۔ یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے اجلاس میں کشمیر چوک اور فیصل مسجد کے قریب نئے انڈر پاسز کی تعمیر کے منصوبوں پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں ٹریفک کے اہم مقامات کو سگنل فری بنانے کے لیے جاری انفراسٹرکچر منصوبوں کا حصہ ہے، جس طرح نجی میڈیکل کالجز میں 18 سے 21 لاکھ روپے فیس مقرر کرنے جیسے اقدامات عوامی فلاح کے لیے ضروری ہیں۔
منصوبے کا تکنیکی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد مالی بولیوں کا جائزہ لے کر کامیاب ٹھیکیدار کا انتخاب کیا جائے گا۔ تاہم اس عمل کا انحصار تکنیکی جانچ کے خلاف دائر کی گئی شکایت کے فیصلے پر ہے۔ شکایت کا معاملہ طے ہونے کے بعد سی ڈی اے مالی بولیاں کھولے گا اور قواعد کے مطابق اہل اور کامیاب بولی دہندہ کا انتخاب کیا جائے گا، جس کے بعد تعمیراتی کام شروع ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔ منصوبے کی تکمیل سے مری روڈ، راولپنڈی اور سرینا کی جانب آنے اور جانے والی ٹریفک کی روانی بہتر ہونے کی توقع ہے، جبکہ کشمیر چوک، اسلام آباد کلب اور ملحقہ شاہراہوں پر ٹریفک کے دباؤ میں بھی کمی آسکتی ہے۔ واضح رہے کہ بعض رپورٹس میں منصوبے کی لاگت 1.4 ارب روپے جبکہ بعض ابتدائی اندازوں میں 1.69 ارب روپے تک بیان کی گئی ہے۔