ایف پی سی سی آئی کا کیش لیس معیشت کے فروغ کیلئے اہم اجلاس

کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے کیش لیس معیشت کے قیام اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتی اداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں کے ساتھ ایک اہم راؤنڈ ٹیبل سیشن کا انعقاد کیا ہے۔ اجلاس کی صدارت صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کی۔
ڈیجیٹل معیشت کی جانب منتقلی ناگزیر ہے، عاطف اکرام شیخ
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے فیڈریشن ہاؤس میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو کیش لیس نظام کی جانب منتقل کرنا اب کوئی اختیاری معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ ملکی معاشی ترقی کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نقد لین دین سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب منتقلی سے شفافیت یقینی بنے گی، کاروباری لاگت میں کمی آئے گی اور پاکستانی مارکیٹوں کو عالمی معیشت سے مربوط کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سے قبل پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے حل کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل بھی اسی نوعیت کے معاشی استحکام کے اقدامات کا حصہ رہی ہے۔
اسٹیک ہولڈرز کا ڈیجیٹل نظام پر اتفاق
اجلاس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور سندھ ریونیو بورڈ (SRB) کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اسٹیٹ بینک کے فنانشل انکلوژن سپورٹ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ غلام محمد پھل نے یقین دلایا کہ مرکزی بینک محفوظ اور مستحکم ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔ ایف بی آر کے چیف کمشنر آر ٹی او، ظفر رفیق نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اور ایف بی آر دستاویزی کاروبار کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس مراعات کا جائزہ لے رہا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں حکومت بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے پر عدالتی حکم کی پابند ہے، تاہم معاشی اصلاحات پر ادارے اب متفقہ لائحہ عمل مرتب کر رہے ہیں۔
ٹیکس مراعات اور کاروباری برادری کا کردار
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ روایتی کاروباری طریقوں اور ڈیجیٹل حل کے درمیان خلا کو ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ ڈالنے کے بجائے مراعات کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے۔ سندھ ریونیو بورڈ کے سینئر ممبر عبدالحمید میمن نے بتایا کہ سندھ میں ریستورانوں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی پر سیلز ٹیکس کی شرح 8 فیصد رکھی گئی ہے جبکہ نقد ادائیگی پر یہ 15 فیصد ہے۔ ایف پی سی سی آئی کے پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو اپنانے والے تاجروں کے لیے مخصوص ٹیکس ریلیف معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم کر سکتا ہے۔ جس طرح حج 2027 کیلئے مختص سرکاری نشستیں سات دنوں میں مکمل ہوگئیں، اسی طرح معاشی پالیسیوں میں تیزی اور شفافیت لانے کی ضرورت ہے۔