دنیا کا دوسرا سرد ترین دارالحکومت آستانہ شدید گرمی کی لپیٹ میں

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ قازقستان کا دارالحکومت آستانہ، جو اپنی شدید سردی کی وجہ سے دنیا کا دوسرا سرد ترین دارالحکومت سمجھا جاتا ہے، اس وقت ایک غیر معمولی اور شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہے۔ درجہ حرارت میں ہونے والا یہ ریکارڈ اضافہ نہ صرف مقامی شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہے بلکہ ماہرینِ موسمیات کو بھی گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جیسے کہ وزیر مملکت وجیہہ قمر کی قازقستانی وزیر سائنس سے اہم ملاقات کے دوران دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوا، اب موسمیاتی چیلنجز بھی خطے کی ترجیحات میں شامل ہو رہے ہیں۔
غیر معمولی موسمیاتی تبدیلیاں
عام طور پر شدید سردیوں کے لیے مشہور آستانہ میں، جہاں موسمِ سرما کے دوران درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بہت نیچے یعنی منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے، وہاں اس سال گرمی کی دو غیر معمولی لہریں چند ہفتوں کے اندر ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ موسمیاتی سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات کا واضح اور تشویشناک ثبوت ہے۔ جس طرح محکمہ موسمیات کی پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کی وارننگ جاری کی جاتی ہے، اسی طرح اب آستانہ جیسے سرد شہروں کو بھی ایسی ہی ہنگامی منصوبہ بندی کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔
مستقبل کے چیلنجز اور حکمتِ عملی
ماہرین کے مطابق، شدید گرمی کی یہ لہریں صحتِ عامہ، پانی کے ذخائر کی دستیابی، زراعت اور شہر کے موجودہ انفراسٹرکچر کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسے شہر جو بنیادی طور پر سخت سرد موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے تعمیر کیے گئے تھے، اب بڑھتی ہوئی تپش سے نمٹنے کے لیے نئی اور پائیدار حکمتِ عملیاں اپنانے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال بالکل ویسی ہی ہے جیسے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا مسلم دنیا میں سائنسی تحقیق پر زور دیتے ہوئے سائنسی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر اصرار کیا گیا۔
حکومتی ذمہ داری اور منصوبہ بندی
موسمیاتی ماہرین نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ گرمی کی شدید لہروں سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات، موسمیاتی موافق (Climate-Resilient) انفراسٹرکچر اور جدید شہری منصوبہ بندی کو اولین ترجیح دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے شدید موسمی واقعات کی تعداد اور شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس کے لیے اب سے تیاری کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔