مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے چیمبر وفد کی ملاقات

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے چیمبر وفد کی ملاقات

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے اسلام آباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹریز کے وفد نے پیر کو ملاقات کی۔ ترجمان وزارت تجارت کے مطابق ملاقات میں ایس ایم ایز، ٹیکس اصلاحات، صنعتی انفراسٹرکچر اور کاروباری آسانیوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ حکومت ایس ایم ایز کے فروغ اور صنعت کاری کے لیے کاروبار دوست ماحول فراہم کرے گی، غیر ضروری ریگولیٹری رکاوٹیں ختم کی جائیں گی اور کاروباری عمل کو مزید آسان بنایا جائے گا۔ یہ اقدامات ٹرمپ کی نئی امیگریشن پالیسی سے امریکا میں افرادی قوت کا بحران جیسے عالمی معاشی چیلنجز کے تناظر میں ملکی معیشت کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہیں۔

کاروباری عمل میں سہولت اور ریگولیٹری اصلاحات

جام کمال نے مزید کہا کہ کاروبار کی رجسٹریشن کا نظام آسان اور سہل بنایا جا رہا ہے، ٹیکس نیٹ میں توسیع نئے کاروباروں کی دستاویزی شمولیت سے ممکن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کی نئی ایس ایم ای تعریف کاروباری شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اسلام آباد میں جدید چھوٹے صنعتی زونز کے قیام کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ وزیر تجارت کے مطابق ایس ایم ایز کو صنعتی سٹیٹس ملنے سے ملکی پیداوار، روزگار اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

فوڈ انڈسٹری اور ایکسپورٹ میں اضافے کے امکانات

جام کمال کا کہنا تھا کہ فوڈ انڈسٹری اور ای کامرس پاکستان کی معیشت کے تیزی سے ابھرتے ہوئے شعبے ہیں۔ اسلام آباد میں جدید سلاٹر ہاؤس کے قیام سے حلال گوشت کی برآمدات کو فروغ ملے گا۔ لائیو اسٹاک ویلیو چین میں ویلیو ایڈیشن سے قومی معیشت کو براہ راست فائدہ پہنچے گا، جس کے لیے حکومت موثر پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔

خصوصی اکنامک زون کا قیام

وزیر تجارت نے بتایا کہ اسلام آباد چیمبر نے چھوٹے تاجروں اور صنعتوں کے لیے 100 ایکڑ پر خصوصی اکنامک زون قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ میں 100 ایکڑ پر ایس ایم ای اسپیشل اکنامک زون کی تجویز کا خیرمقدم کرتا ہوں، اس حوالے سے ایک قابلِ عمل منصوبہ پیش کریں، حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی۔ جیسا کہ حال ہی میں پاکستان اور قازقستان کا تعلیمی و سائنسی ریسرچ سینٹر قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے، اسی طرح معاشی ترقی کے لیے عالمی تعاون اور داخلی سطح پر صنعت کاری کا فروغ ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس سے قبل مون سون 2026: ایمرجنسی ریسپانس کمیٹی کا تیاریوں پر اہم اجلاس جیسے اقدامات کے ذریعے بھی ملکی انفراسٹرکچر کی حفاظت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں